امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی سے انٹرا افغان بات چیت کی راہ ہموار ہوگی جس سے افغانستان کے دیرینہ تنازعہ کے پرامن حل میں مدد ملے گی ، مستقل مندوب منیر اکرم

اقوام متحدہ ۔ 28نومبر(اے پی پی) پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی سے انٹرا افغان بات چیت کی راہ ہموار ہوگی جس سے افغانستان کے دیرینہ تنازعہ کے پرامن حل میں مدد ملے گی ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے جنگ زدہ ملک افغانستان کی صورتحال سے متعلق جنرل اسمبلی کی بحث میں حصہ …

اقوام متحدہ ۔ 28نومبر(اے پی پی) پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی سے انٹرا افغان بات چیت کی راہ ہموار ہوگی جس سے افغانستان کے دیرینہ تنازعہ کے پرامن حل میں مدد ملے گی ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے جنگ زدہ ملک افغانستان کی صورتحال سے متعلق جنرل اسمبلی کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں مدد کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کا مثبت جواب دیا اور جب اس عمل میں تعطل آیا تو پاکستان نے طالبان پولیٹیکل کمیشن کا اجلاس منعقد کیا اور امریکی اور آسٹریلوی قیدیوں کی رہائی میں سہولت کے ذریعہ کشیدگی میں کمی لائی ،منیر اکرم نے کہا کہ ان کوششوں سے دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور توقع ہے کہ اس سے پرامن اور براہ راست مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا جس کے نتیجہ میں ہمیں امید ہے کہ بالاخٓرایک پر امن معاہدہ طے ہو جائےگا۔انہوں نے کہا کہ ایسے پرامن حل میں اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ افغانستان سے کوئی دہشت گرد گروپ دہشت گردی نہ کرے ۔افغانستان کی نازک سیکورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات ہیں اور ہم امن و استحکام کے اہم نصب العین کے لئے اس کی حمایت کرتے ہیں ۔افغانستان میں چار عشروں سے جاری جنگ اور غیر ملکی مداخلت سے افغانستان اور پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک کا زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ یومیہ بنیادوں پر طورخم کی سرحد تجارتی ٹریفک اور فضائی حدود کھولنے سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان قریبی تعاون کی ایک اور ٹھوس جہت کا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے نمایاں مدد دی، تعلیم ، صحت تعمیر نو اورانفراسٹرکچر کے شعبوں کی ترقیکے لئے تعاون کیا ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور جسے منصوبوں سمیت اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے پراجیکٹس کے لئے نئی راہیں کھلیں گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چار عشروں تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ، ہم نے ان کی محفوظ ، باوقار اور رضاکارنہ واپسی کا عزم کر رکھا ہے ۔