وفاقی وزیر برائے شہری ہوا بازی غلام سرور خان کا قومی اسمبلی میں یوم سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے جاری بحث کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے شہری ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ قوم نے جس بہادری کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی وہ قابل تحسین ہے‘ ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا کہ جن مقاصد کے لئے پاکستان وجود میں آیا وہ حاصل کرنا ہوں گے‘ اقوام عالم آج تک کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کے لئے قراردادوں پر عمل …

اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے شہری ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ قوم نے جس بہادری کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی وہ قابل تحسین ہے‘ ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا کہ جن مقاصد کے لئے پاکستان وجود میں آیا وہ حاصل کرنا ہوں گے‘ اقوام عالم آج تک کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کے لئے قراردادوں پر عمل نہیں کر اسکی‘ 135 دنوں کے محاصرے نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے‘ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں یوم سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے غلام سرور نے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول کے پانچ سال قبل سانحہ میں 151 شہادتیں ہوئیں۔ ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جس میں 70 ہزار سول اور فوجی شہادتیں ہوئیں۔ ہمارے سکول‘ کالج‘ یونیورسٹیاں‘ امام بارگاہیں اور اولیاءکرام کے مزارات بھی دہشتگردی کا شکار ہوئے۔ قوم نے جس بہادری کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا کہ جن مقاصد کے لئے پاکستان وجود میں آیا ہمیں وہ حاصل کرنا ہوں گے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آیا مگر 16 دسمبر کے دن ہی یہ وطن دولخت ہوا۔ ہمیں نئی نسل کو بتانا چاہیے کہ قیادت کے غلط فیصلوں اور عالمی سازشوں کے تحت کس طرح پاکستان دولخت ہوا۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا آج تک کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کے لئے قراردادوں پر عمل نہیں کر اسکی۔ 135 دنوں کے محاصرے نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔