اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہندو بالا دستی کا نظریہ مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، پارسیوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے، مسیح رہنما امن وانسانیت کے ناطے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے حق اور ہندو قوم پرستی کی ابھرتی لہر کے خلاف دنیا بھر میں آواز بلند کریں کیونکہ یہ …
ہندو بالا دستی کا نظریہ مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، پارسیوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے، سردار مسعود خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہندو بالا دستی کا نظریہ مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، پارسیوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے، مسیح رہنما امن وانسانیت کے ناطے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے حق اور ہندو قوم پرستی کی ابھرتی لہر کے خلاف دنیا بھر میں آواز بلند کریں کیونکہ یہ منفی نظریہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے یکساں چیلنج ہے۔ کشمیر ہاو¿س اسلام آباد میں گلوبل مشن آگاہی تحریک کے صدر ڈاکٹر لیف ہٹلینڈ کی قیادت میں مسیح رہنماو¿ں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندو انتہاءپسند بھارت میں صدیوں سے آباد مسلمانوں کو غیر ملکی، دخل انداز اور حملہ آور تصور کرتے ہیں اور انہیں بھارتی معاشرے کے لئے ناموزوں اور ہندوو¿ں کے مقابلے میں کمتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اس طرح کا نظریہ نازی جرمنی میں یہودیوں کے بارے میں سامنے آیا تھا جس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ جیسے سانحات وقوع پذیر ہوئے تھے۔ بد قسمتی اسی طرح کا نظریہ اب جنوبی ایشیاءمیں ہندوتوا کی صورت میں سامنے آچکا ہے جس کا ہدف صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندوو¿ں کے علاوہ تمام مذہبی اقلیتیں ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے وفد کو آگاہ کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت نے اس سال اگست میں مقبوضہ کشمیر پر حملہ کر کے اس پر ایک بار پھر قبضہ کیا، پوری کشمیری آبادی کو محاصرے میں لیا اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کر دیا۔ بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کے ساتھ ساتھ اس کی نو لاکھ فوج مقبوضہ جموں وکشمیر میں محصور آبادی پر بدترین مظالم ڈھا رہی ہے، 13 ہزار نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کر انہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ زمین اب ان کی نہیں بلکہ بھارت کی فاتح فوج کی ہے۔ جموں وکشمیر کے عوام کو نہ صرف ان کے پیدائشی حق، حق خودارادیت سے محروم کیا گیا ہے بلکہ کشمیر اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور ظلم و ستم کو سرکاری سرپرستی میں ہوا دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر لیف اور ان کی امن و محبت پھیلانے والی تحریک کی تعریف کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ڈاکٹر لیف نہ صرف امن کے علمبردار ہیں بلکہ ان کی تحریک جس کے دنیا بھر میں سات لاکھ سے زیادہ ممبران ہیں اور دو ہزار سے زیادہ چرچوں کی نمائندگی کرتی ہے، اس تحریک کی جانب سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کی حمایت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر لیف اور ان کے وفد کے ارکان جناب ڈاکٹر مرکوس فدا، فریڈ ورنر اور پیس گروپ آف جرنلسٹس کے سربراہ سعید الرحمان صدیقی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اورمودی حکومت کی طرف سے اور حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والی ہندو انتہاءپسند تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں، عیسائیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وفد کے سربراہ ڈاکٹر لیف نے کہا کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مسیح برادری کو بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہونے والے واقعات کا پوری طرح علم نہیں اور ان کی تنظیم کشمیر کے حوالے سے دنیا بھر میں آگاہی پیدا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندو بالا دستی کا نظریہ خطہ میں امن اور مذہبی اقلیتوں کے پیروکاروں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر رہا ہے جس کے خلاف آواز اٹھانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔








