اسلام آباد ۔ 18 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے ایک بار پھر اقلیتی آبادی میں کمی اور ان پر ظلم و ستم سے متعلق بھارتی حکومت و سیاستدانوں کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ 1947میں تقسیم کے دوران بڑے پیمانے پر مائیگریشن اور 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی …
پاکستان نے ایک بار پھر اقلیتی آبادی میں کمی اور ان پر ظلم و ستم سے متعلق بھارتی حکومت و سیاستدانوں کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد 1947میں تقسیم کے دوران بڑے پیمانے پر مائیگریشن اور 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پاکستان میں اقلیتی آبادی متاثر ہوئی’ ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے ایک بار پھر اقلیتی آبادی میں کمی اور ان پر ظلم و ستم سے متعلق بھارتی حکومت و سیاستدانوں کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ 1947میں تقسیم کے دوران بڑے پیمانے پر مائیگریشن اور 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پاکستان میں اقلیتی آبادی متاثر ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان(سابقہ مغربی پاکستان)میں گزشتہ دہائیوں میں اقلیتیوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ترجمان نے پاکستان میںپہلی مردم شماری(1951)کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت مغربی پاکستان(موجودہ پاکستان)میں اقلیتیوں کی مجموعی آبادی 3.12فیصد تھی جو کہ 1998کی مردم شماری کے مطابق بڑھ کر3.72فیصد ہوگئی۔اس طرح پاکستان میں منعقدہ مردم شماریوں سے ظاہر ہے کہ دوسری مردم شماری(1961) میں پاکستان میں اقلیتی حصہ2.96فیصد جبکہ دوسری مردم شماری(1998) میں یہ آبادی بڑھ کر 3.72فیصد تک پہنچ گئی۔1998کی مردم شماری سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ہندووں کی آبادی (1951میں)1.5فیصدسے بڑھ کر 1998میں دو فیصد ہوگئی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارتی شہری ترمیمی ایکٹ جیسی امتیازی قانون سازی کا جواز ڈھنڈنے کیلئے بی جے پی حکومت اور رہنماوں کی جانب سے حقائق کو توڑ مروڑ نے کی مذمت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ جھوٹ پر مبنی اس بھارتی مہم کا مقصد اپنے ہی عوام اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔ ترجمان نے کہنا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے مشترکہ امتیازی اقدامات اور مزموم پروپیگنڈے انکے اپنے اصل چہرے بے نقاب کر دینگے۔عالمی برادری کو بھی بھارت کے ان مزموم عزائم کا بخوبی علم ہوچکا ہے اور بین الاقوامی میڈیا سمیت سول سوسائٹی تنظیموں،یو این سیکرٹری جنرل اور یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پہلے ہی این آر سی اور شہری ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے اپنے تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔








