وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ادویات کی نگرانی کے استحکام ، سپلائی چین میں شفافیت اور جعلی و غیر معیاری ادویات کی گردش کو روکنے کے لیے ‘فارماسیوٹیکل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم’ کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔قومی وزارت صحت کے مطابق وفاقی وزیر نے نظام کے نفاذ میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور اس کے بروقت اور مؤثر آغاز کو یقینی بنانے کے …
وفاقی وزیر صحت کا ادویات کے ‘ٹریک اینڈ ٹریس’ نظام کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ادویات کی نگرانی کے استحکام ، سپلائی چین میں شفافیت اور جعلی و غیر معیاری ادویات کی گردش کو روکنے کے لیے ‘فارماسیوٹیکل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم’ کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔قومی وزارت صحت کے مطابق وفاقی وزیر نے نظام کے نفاذ میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور اس کے بروقت اور مؤثر آغاز کو یقینی بنانے کے حوالہ سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں سپلائی چین کے دوران ادویات کی نگرانی کو بہتر بنانے، شفافیت بڑھانے اور عوام کو محفوظ اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے نظام کے نفاذ سے وابستہ چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس کے مؤثر آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا۔
اس اقدام کا مقصد ادویات کی نگرانی کو مضبوط بنانا، ٹریس ایبلٹی (ادویات کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی صلاحیت) کو بہتر بنانا اور سپلائی چین میں جعلی ادویات کے داخلے کو روکنے میں مدد کرنا ہے۔اجلاس میں عوامی صحت کے تحفظ اور ملک بھر میں معیاری ادویات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر ریگولیٹری اقدامات اور جدید نگرانی کے نظام کی اہمیت کا اعادہ بھی کیا گیا۔







