قومی پیغام امن کمیٹی نے کراچی سے خیبر تک تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو متحد کیا ہے، طاہر محمود اشرفی

چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمدطاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے کراچی سے خیبر تک تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو متحد کیا ہے،حرمین شریفین پر حملہ قابل مذمت ہے۔ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاںصوبائی پیغام امن کمیٹی حکومت پنجاب کے زیر اہتمام ”پاکستان اور عالم اسلام” کے موجودہ حالات پر علمی و فکری نشست سے خطا ب …

لاہور۔10اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمدطاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے کراچی سے خیبر تک تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو متحد کیا ہے،حرمین شریفین پر حملہ قابل مذمت ہے۔ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاںصوبائی پیغام امن کمیٹی حکومت پنجاب کے زیر اہتمام ”پاکستان اور عالم اسلام” کے موجودہ حالات پر علمی و فکری نشست سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان مختلف مسالک و مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے،جو حقوق اسلام نے اقلیت کو دیئے ہیں،ان پر عمل درآمد کروانا ہماری ذمہ داری ہے،پاکستان میںمسیحی ،ہندو اور سکھ سمیت تمام اقلیتیں مل جل کر اپنے درپیش مسائل حل کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام مسالک نے پیغام پاکستان میں بات طے کررکھی ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کا مسلک چھیڑو نہیں، کیونکہ اسلام دیگر مذاہب کے مقدسات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو دو صوبوں میں دہشت گردی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف متحد ہونا ہے،کے پی میں پولیس اورفوج سمیت عام آدمی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،لیکن کوئی وزیربھی ان کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوتا۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پولیس یا فوج کے جوان ہمارے بیٹے ہیں،دشمن کو نشانہ اس لئے بنایاجاتا ہے کہ وہ پاکستانیوں کو شہید کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم اور سپہ سالار کا شکر گزار ہوں کہ اقلیتوں کو بھی صوبائی پیغام امن کمیٹی میں شامل کیا تاکہ ان کی بھی نمائندگی ہوجائے۔

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آج دو صوبوں کی عوام کو پیغام دینا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جہاں روز شہادتیں ہو رہی ہیں ،حرمین شریفین پرحوثی حملہ کریں یا کوئی ا ور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ میں آقائے دوعالم کا روزہ ہے، اگر کوئی مکہ مکرمہ یا مسجد نبویۖ پر حملہ کرے تو برداشت نہیں کریں گے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کا سعودی عرب ترکیہ کیساتھ دفاعی معاہدہ عالم اسلام اور ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پچیس لاکھ اور یو اے ای میں پندرہ لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں، ہم حوثیوں کے معاملہ کو سنی شعیہ مسئلہ نہیں سمجھتے۔

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ یمن میں پاک فوج کی کارروائی کے حوالے سے بے بنیاد خبروں پر ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو سراسر جھوٹ بولتے ہیں۔ فکری نشست سے خطاب کر تے ہو ئے سردار رنجیت سنگھ نے کہا کہ پاکستان وہ گھر ہے جہاں امن و محبت کا درس ملتا ہے،سب سے اونچا مذہب انسانیت کا مذہب ہے،جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔سردار رنجیت سنگھ نے کہا کہ ہم سب نے مل کر ملک کو مضبوط کرنا اور اپنے گھر کی طرح امن کوفروغ دینا ہے۔بشپ ندیم کامران نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا،ہم سب نے مل کر موجودہ حالات کے تناظر میں بھی اپنا قومی فریضہ سرانجام دیا اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔ اس موقع پر دگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔