اسلام آباد ۔ 19 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستانی قوم کی طرف سے نریندر مودی سرکار کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ اگر جارحیت کی، فالس فلیگ آپریشن کیا گیا یا کسی اور بہانے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو پاکستانی افواج تیار ہیں بروقت اور مناسب …
متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج سے توجہ ہٹانے کیلئے ہمیں بھارت کیطرف سے نیا ناٹک رچائے جانے کا خدشہ ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستانی قوم کی طرف سے نریندر مودی سرکار کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ اگر جارحیت کی، فالس فلیگ آپریشن کیا گیا یا کسی اور بہانے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو پاکستانی افواج تیار ہیں بروقت اور مناسب جواب دیا جائے گا،بھارتی آرمی چیف کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے ،ہماری انٹیلیجنس نے غیر معمولی نقل و حرکت کو محسوس کیا ہے جو اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ بھارت کے ارادے درست نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارت نے جنوری 2019 سے اب تک 3ہزار مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی ہے، خواتین اور بچوں سمیت نہتے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنے ایک ویڈیو بیان میں کیا۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 136 دن ہو چکے ہیں، مواصلات کے ذرائع معطل ہیں میڈیا اور سفارتکاروں پر پابندی ہے، بھارت کے عزائم کو بھانپتے ہوئے میں نے ایک اور خط سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کیا، بھارت میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف لوگ سراپا احتجاج ہیں، اس احتجاج سے توجہ ہٹانے کیلئے ہمیں ہندوستان کیطرف سے نیا ناٹک رچانے کا خدشہ ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے عزائم کو بھانپتے ہوئے میں نے ایک اور خط سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کیا۔ یہ میرا ساتواں خط تھا جس میں میں نے ان اقدامات کی نشاندہی کی ہے جن سے بھارت کے ناپاک عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔ میں نے خاص طور پر چار اقدامات پر توجہ دلائی ہے ۔ لائن آف کنٹرول پر لگی ہوئی باڑ کو پانچ جگہ سے کاٹا ہے اس کے پیچھے کیا عزائم ہیں کیا کوئی نیا مس ایڈونچر ہونے جا رہا ہے؟ ان پر بھی ہمیں تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2019 سے ابتک تین ہزار مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی ہے، 300 کے قریب نہتے انسانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ہمارے اس خط کی بنیاد پر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں چین نے اس مسئلے کو دوسری مرتبہ اٹھایا۔ پہلی مرتبہ پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کے پیش نظر اس مسئلے کو سیکورٹی کونسل میں اٹھایا گیا اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں بند کمرے کے اجلاس میں ساری صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ چین نے اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں بروقت اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان نئے اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ جو ہماری طرف بھی موجود ہیں اور بھارت میں بھی تعینات ہیں ان کے ذریعے چھان بین کروائی جائے اور وہ زمینی حقائق سے سلامتی کونسل کو آگاہ کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں جلد از جلد تاریخ کا تعین کیا جائے تاکہ حقائق انڈیپنڈنٹ ذرائع سے فورآ سلامتی کونسل تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے عزائم واضح ہیں سب سے پہلے 5 اگست کو غیر قانونی اقدامات کئے گئے جس میں پورا کشمیر سراپا احتجاج ہے امریکہ، یورپی یونین، ہاؤس آف کامنز اور دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کو دبانے کیلئے بھارت نے ظالمانہ اقدامات اٹھائے۔








