ملتان ۔29دسمبر(اے پی پی) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس لانے کا مقصد کرپشن پر پردہ ڈالنا یا این آر او دینا نہیں، نیت پر شک نہ کیا جائے، نیب قوانین پر نظرثانی ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا بدقسمتی سے ہماری رویش بن چکی ہے کہ ہم بغیر سوچے سمجھے کسی چیز پر تنقید کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے …
مخدوم شاہ محمودقریشی کی ملتان میں میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
ملتان ۔29دسمبر(اے پی پی) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس لانے کا مقصد کرپشن پر پردہ ڈالنا یا این آر او دینا نہیں، نیت پر شک نہ کیا جائے، نیب قوانین پر نظرثانی ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا بدقسمتی سے ہماری رویش بن چکی ہے کہ ہم بغیر سوچے سمجھے کسی چیز پر تنقید کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ممبر صوبائی امن کمیٹی و اتحاد بین المسلمین کے صدر ملک شفقت حسنین بھٹہ کی والدہ کی قل خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اپوزیشن پہلے نیب آرڈیننس کو پڑھ لے اس کے بعد بات کرے۔ اپوزیشن کہتی تھی ملک کا پہیہ نہیں چل رہا۔ کہا جا رہا تھا کہ کاروباری افرادکو ہراساںکیاجاتا ہے۔،پرائیویٹ سیکٹر کا چیک اینڈ بیلنس موجود ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر نظر ثانی کر کے حکومت نے نیب آرڈیننس پیش کیا۔ حکومت نے ایک تجویز دی ہے کہ لوگوں کے دلوں سے نیب کا خوف نکالا جائے۔وہ سرکاری افسران جن کو کرپشن نہیں صرف طریقہ کار کی وجہ سے دھر لیا گیا ان کا خوف دور کرنے کے لیے یہ کیا گیا۔اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے تو بات کی جا سکتی ہے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ اداروں کے درمیان تصادم کے کوئی خدشات نظر نہیں آتے ۔پاکستانی آئین میں اداروں کاکردار واضح ہے ۔ہمارے اداروں میں سمجھ دار لوگ بیٹھے ہیں۔ ججز مکمل ذمہ داری سے کام کررہے ہیں۔پاکستانی افواج کی دہشت گردی کیخلاف قربانیاں دنیا کے سامنے ہیں۔اگر عدلیہ ‘ مقننہ اور انتظامیہ تینوں اہم ستون اپنی حدود میں رہیں گے تو مسئلے نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر پر دنیا خاموش نہیں ہے،بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک بھارت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کشمیر کا مسئلہ ایک وادی کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔مسئلہ کشمیر پر دنیا کا کوئی دارالخلافہ خاموش نہیںاور نہ ہی کوئی جریدہ ایسا ہے جہاں کشمیر پر بات نہ ہوئی ہو۔کشمیر میں میڈیا پر پابندی کے باعث بھارت کا اصلی چہرہ سامنے نہیں آ سکا۔کشمیر کا کوئی لیڈر ایسا نہیں جو بھارت کی تائید کر رہا ہو۔بھارت نے 5 اگست کو کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشس کی متنازعہ شہریت بل کی وجہ سے پورے بھارت میں افراتفری کاماحول ہے دنیااس کودیکھ رہاہے ،کیا مودی سرکار پورے بھارت میںکرفیولگاسکے گی۔ بھارت نے 5 جگہوں پر ایل اوسی باڑ کو کاٹا ہے،مختلف جگہوں پر بھارت کی جانب سے میزائل نصب کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاہمیں بھارت سے فالس فلیگ آپریشن کا خدشہ ہے۔ بھارت اندرنی دباو سے نکلنے کے لئے کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔بھارت کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا الزام پاکستان پر لگا سکتا ہے۔بھارت اپنے حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں کوئی اپریشن کر سکتا ہے۔وزیرخارجہ نے مزیدکہاکہ12 دسمبر کو ساتواں خط سلامتی کونسل کو لکھا ہے۔ چین نے میرے خط کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے آبزرور سلامتی کونسل کو بریفنگ دےں۔کشمیر کے مسئلہ پر جو کیا جاسکتا ہے حکومت کررہی ہے۔اس وقت بھارت دو سوچوں میں تقسیم دکھائی دے رہا ہے۔ بھارت میں ایک سیکولر سوچ ہے۔ اور ایک ہندوتوا سوچ ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر سے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس مسئلہ پر حکومت پاکستان نے آواز اٹھائی ہے۔انہوںنے کہاکہ اوآئی سی میں وزرا ءخارجہ کی سطح کا اجلاس ہونا چاہیے۔ہماری خواہش ہے جلد ازجلد اوآئی سی کا اجلاس ہونا چاہیے۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ اجلاس پاکستان اسلام آباد میں ہو ۔بھارت کے عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔بھارت کی مارکیٹ اور وسائل ہم سے زیادہ ہے جس کو بروکار لاتے ہوئے بھارت امریکہ سمیت پوری دنیا میں لابی کرتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہاڈاکٹر مہاتیر کی نیت پر ہم نہ شک کرتے ہیں نہ کرتے تھے ۔ ہم نے سوچا تھا کہ مل کر مختلف منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں یہ بڑی مثبت سوچ تھی۔کچھ دوستوں کو خدشہ تھا کہ کہیں اس سے امت تقسیم نہ ہو جائے ۔ہم مسلمہ امہ کے درمیان جو غلط فہمیاں تھیں انہیں دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فروری میں ترکی کے صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان ملائشیا جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ہماری کوشش رہی ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور کی جائیں۔انہوں نے کہا سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان پر شکر گزار ہیں۔ انہیں بھرپور سیکیورٹی دی گئی۔ بنگلہ دیش آنے کو تیار تھا شاید بھارتی دباو¿ کی وجہ سے انہوں سے انکار کیا۔ بنگلہ دیش کو اپنا موقف رکھنا چاہیے دباو¿ میں نہیں آنا چاہیے۔ ہم نے بنگلہ دیش ٹیم کو بھی فل سیکیورٹی دینا تھی۔انہوں نے کہا سردیوں میں گیس کا بحران آتا ہے۔ گیس کا بحران سندھ اور پنجاب کا مسئلہ نہیں، ہم اس مسئلہ پر قابو پانے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔سندھ حکومت کو گیس مسئلہ پر سیاست کرنے کی بجائے مل بیٹھ کر مسئلہ کا حل نکالنا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا افغانستان کے انتخابات خوش آئندہے ۔افغانستان میں جو حکومت آئی اسے خوش آمدید کہیں گے۔افغانستان میں امن ہماری خواہش ہے۔ افغانستان میں امن ہوگا تو خطے میںبھی امن ہوگا۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب سے اس مسئلے پر بات چیت ہوئی اوروزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست کی کہ جنوبی پنجاب صوبے بارے کوششیں تیزکی جائیں۔امید ہے جلد اس مسئلے پر پیش رفت ہوگی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر ا ختر ملک ‘صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ندیم قریشی‘ شفقت حسنین بھٹہ ‘ رانا عبدالجبار ‘ سید طالب پرواز‘خواجہ سلیمان صدیقی بھی موجودتھے۔








