اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میرا تعارف سماجی کارکن کا ہے جس پرمجھے فخر ہے، میں سیاست میں روزگار اور کاروبار کے لیے نہیں آئی۔پاکستان کا تعارف اسلامی فلاحی ریاست کا ہے،شوکت خانم غریب اور مستحق لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے،عمران خان نا ممکن کو ممکن بنا کر پاکستان …
لیڈرشپ پرعزم ہو تو حیلے بہانے منزل پر پہنچنے سے نہیں روک سکتے ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میرا تعارف سماجی کارکن کا ہے جس پرمجھے فخر ہے، میں سیاست میں روزگار اور کاروبار کے لیے نہیں آئی۔پاکستان کا تعارف اسلامی فلاحی ریاست کا ہے،شوکت خانم غریب اور مستحق لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے،عمران خان نا ممکن کو ممکن بنا کر پاکستان کے ایوانوں میں آئے ہیںِ،اسٹیٹس کوکو چیلنج کریں تو وہاں رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، لیڈرشپ پرعزم ہو تو حیلے بہانے منزل پر پہنچنے سے نہیں روک سکتے۔اتوار کو یہاں مقامی ہوٹل میں عالمی صحت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پروفیشنل ازم کے ساتھ اچھا انسان ہونا ضروری ہے، میرا تعارف سماجی کارکن کا ہے جس پر فخر ہے، سماجی کارکن کسی منصب پر پہنچتا ہے تو اس کی ترجیح انسانیت ہوتی ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات نے کہا کہ میری تربیت میں میرے والدین کا اہم کردار ہے، میری والدہ نے مجھے ایسی تعلیم دی جو میڈیکل کی ہے جس سے انسانیت کے ساتھ احساس اور درد کا رشتہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی، میں سیاست میں روزگار اور کاروبار کے لیے نہیں آئی۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف صحت کے شعبہ میں اصلاحات لے کر آئی ہے اورایجبڈا لے کر آگے چل رہے ہیں ،عمران خان نے نا ممکن کو ممکن بنا کر پاکستان کے ایوانوں میں آئے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ شوکت خانم غریب اور مستحق لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے، آج کا مریض جاگیردار، سرمایہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسراس ملک میں غریب کے لیے درد سر بنا ہوا تھا،80 فیصد غریب لوگ اس مرض سے ہسپتالوں کے دروازوں پر ایڑیاں رگڑ کر جان دے دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اپنی زندگی میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں فری میڈیکل اور مفت ایمبولینس سروس کی سہولت فراہم کی، امیر کے لیے اتنی مشکلات نہیں کیوں کہ وہ پیسے والا ہوتا ہے، عمران خان نے غریبوں کے لیے کینسر کا ہسپتال بنایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تعارف اسلامی فلاحی ریاست کا ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو علاج کی سہولتیں دے ، شجر سایہ دار بنیں اور اپنے شہریوں کو بہترین علاج فراہم کرے، ہسپتالوں میں 90 فیصد مریضوں کو سہولتیں دے رہے ہیں، ہسپتالوں میں 10 فیصد ایسے بھی لوگ ہیں جو مریضوں کا استحصال کرتے ہیں، وہ یہ سمجتے ہیں کے ان کو اگر ان کا حق دے دیا تو پرائیویٹ ہسپتال بند ہو جائیں گے۔ میں آپ میں سے ہوں، کیا ان ہسپتالوں کو ایسے لوگوں کے حوالے کر دیا جائے جو احتجاج کر رہے ہیں یا نوے فیصد کے حوالے رہیں جو درست کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں پرائیویٹ کالجز کے خلاف نہیں ہوں، ہم لوگ پرائیویٹ کالجز میں پڑھنے والے محنت کرکے ان میں داخلہ لیتے ہیں ، دوسری طرف سرمایہ داروں کے بچے جو میرٹ پر نہیں آتے بلکہ پیسے سے سیٹ خرید کر اپنے بچے کو داخل کرواتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ کالجز کے تربیت یافتہ بچے سرکاری ہسپتالوں کی زینت بنتے ہیں، اسی طرح سرمایہ داروں کے بچے میرٹ پر نہیں آئے، وہ سڑکوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کر رہے ہیں جن کے والدین نے ان پر کروڑوں روپے خرچ کیئے ہیں، وہ اپنے ان پیسوں کا ریٹرن چاہتے ہیں۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے کو اپنے مقصد کو نہیں بھولنا چاہیے، طبی شعبے سے وابستہ ہر شخص کا فرض دکھی انسانیت کی خدمت ہے، بدقسمتی سے پبلک ہسپتالوں میں مریض، ڈاکٹرز کا رشتہ کمزور ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے قوم سے جو وعدہ کیا تھا کہ اس شعبہ میں اصلاعات لائوں گا اور گلے سڑے نظام کا خاتمہ کروں گا ، سزا اور جزا کا نظام لائوں گا، اب کا ڈریپ سروس سٹرکچر خود ان کو تحفظ دے گا ۔انہوں نے کہا کہ ڈریپ ریگولیٹری اتھارٹی کا آغاز میرے دور میں ہوا، ادویات کو معیاری بنانے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پرڈریپ کی ری سٹرکچرنگ کرنے اور دنیا کے دوسرے ریجن کے برابر لانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں الیکشن میں کامیابی حاصل کروں یا شکست کھائوں میرا تعلق حلقہ کی عوام کے ساتھ جڑا ہے، اتوار کا دن اپنے حلقے کی عوام کے مسائل حل کرنے کے وقف کرتی ہوں ،ڈاکٹروں کے ساتھ میرا بھرپور تعاون رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ 70 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے، وہ آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، وہاں کی خواتین دائیوں سے اپنا علاج کرواتی ہیں، اس دوران کئی مائیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں،بچے بھی فوت ہوجاتے ہیں، اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اسٹیٹسکو کو چیلنج کریں تو وہاں رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، لیڈرشپ پرعزم ہو تو حیلے بہانے منزل پر پہنچنے سے نہیں روک سکتے۔








