وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کا 11 واں اجلاس

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کا 11 واں اجلاس پیر کو وزارت خارجہ میں ہوا۔ اجلاس میں ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے امتیازی قوانین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے خصوصی مشاورت کی گئی جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر …

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کا 11 واں اجلاس پیر کو وزارت خارجہ میں ہوا۔ اجلاس میں ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے امتیازی قوانین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے خصوصی مشاورت کی گئی جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے معصوم انسانوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ سفارتی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابقہ خارجہ سیکریٹریز، سفراء، ماہرین بین الاقوامی تعلقات سمیت وزارت خارجہ کے سینیئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ہندوستان میں جاری احتجاج، مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو، لائن آف کنٹرول کی صورتحال سمیت اہم خارجہ امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی پر مبنی اقدامات کے خلاف پورا ہندوستان سراپا احتجاج ہے، بھارتی سرکار کے متعصبانہ اقدامات کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والے مظاہرین کو بدترین پولیس تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس مسلم اکثریتی علاقوں میں گھروں میں گھس کر مکینوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے، بی جے پی کی حکومت اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا استحصال کر رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ بھارتی سرکار انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کیلیے کوئی فالس فلیگ آپریشن کر سکتی ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے شرکاءکو صدر سیکورٹی کونسل کو لکھے گئے حالیہ خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں معصوم انسان 5 اگست سے بدترین کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔

مزید خبریں