اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک معاشی مشکلات سے نکل رہا ہے، 2020ءعوام کیلئے خوشحالی لانے کا سال ہو گا، معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے پروگراموں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، مخنث افراد کو صحت انصاف کارڈ کا اجراءخوش آئند ہے، ماضی میں مخنث کمیونٹی کو نظر انداز کیا گیا، ہماری حکومت انہیں ہر طرح …
وزیراعظم عمران خان کا مخنث افراد میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک معاشی مشکلات سے نکل رہا ہے، 2020ءعوام کیلئے خوشحالی لانے کا سال ہو گا، معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے پروگراموں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، مخنث افراد کو صحت انصاف کارڈ کا اجراءخوش آئند ہے، ماضی میں مخنث کمیونٹی کو نظر انداز کیا گیا، ہماری حکومت انہیں ہر طرح سے تحفظ فراہم کرے گی۔ وہ پیر کو مخنث افراد میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخنث کمیونٹی کیلئے صحت کارڈ کا اجراءخوش آئند ہے، اس اقدام پر ڈاکٹر مرزا ظفر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات نہیں کئے اور نہ یہ احساس کیا کہ یہ کمیونٹی کن مشکلات سے گزر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت اس کمیونٹی کی ذمہ داری لے گی اور نادرا سے تمام مخنث افراد کا ڈیٹا حاصل کر کے انہیں صحت انصاف کارڈ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے مخنث کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے وہ کردار ادا نہیں کیا جو ان کا حق تھا، ہماری حکومت انہیں اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتیں عوام کو بہترین انصاف اور انسانیت کا نظام نہیں دے سکیں، ہماری حکومت کو اقتدار ملنے کے بعد مشکل ترین معاشی حالات کا سامنا تھا جس سے اب ہم نکل رہے ہیں۔ حکومت کمزور طبقات اور مشکلات کا سامنا کرنے والے عوام کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت فراہم کرے گی جس کے ذریعے وہ مشکل وقت میں علاج معالجے کی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غریب گھرانوں پر جب کسی بیماری کی صورت میں مشکل وقت آتا ہے تو علاج کیلئے انہیں اپنا سب کچھ بیچنا پڑ جاتا ہے جب میں نے کینسر ہسپتال شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ عوام کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کیلئے کس طرح سب کچھ بیچ کر اپنا علاج کراتے ہیں۔ حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس ہے، صحت انصاف کارڈ ہر غریب گھر کو فراہم کیا جائے گا تاکہ مشکل وقت میں انہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مخنث افراد کو ہیلتھ کارڈ کا اجراءبہت بڑا قدم ہے، حکومت مخنث افراد کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرے گی اور معاشرے میں ان کے حوالے سے پائے جانے والے غلط رویوں کو بھی دور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا، روپے کی قدر مسلسل گر رہی تھی اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو مہنگائی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا، ہماری حکومت نے معاشی حالات کو مستحکم کیا۔ 2020ء ترقی کا سال ہو گا، ہم اب روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرینگے۔ نیب آرڈیننس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے تاکہ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کیلئے احساس پروگرام کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں، یوٹیلٹی سٹورز پر سستے داموں آٹے، چینی اور گھی سمیت بنیادی اشیاءضروریہ کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ حکومت راشن کارڈ کا پروگرام بھی شروع کر رہی ہے جس کے ذریعے غریب طبقات کو راشن فراہم کیا جائے گا۔ ملک میں مزید لنگر خانے کھولے جائیں گے تاکہ کوئی بھوکا نہ رہے، کاروبار کیلئے نوجوانوں کو آسان اقساط پر قرض دے رہے ہیں۔ حکومت ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہے تاکہ روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے مزید پروگرام لائے جائیں گے۔ 2020ءعوام کیلئے خوشحالی لانے اور مشکل وقت سے گزرنے کے بعد یہ آگے بڑھنے کا سال ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے مخنث کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کر کے اس پروگرام کا آغاز کیا۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ یہ پروگرام وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا عکاس ہے، دکھی انسانیت کی خدمت وزیراعظم عمران خان کا نصب العین ہے، نادار افراد کیلئے وزیراعظم کے دل میں درد ناقابل بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام افراد کو ضرورت کے مطابق صحت سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے، پاکستان کی 50 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ان افراد کو صحت کارڈ کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ 68 لاکھ مستحق خاندان صحت کارڈ کی سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں، 2020ءکے آخر تک تمام مستحق خاندانوں کو صحت کارڈ دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صحت انصاف کارڈ پروگرام 84 اضلاع میں جاری ہے ، صحت کارڈ کے ذریعے 300 نجی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت میسر ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ملک بھر میں تمام معذور افراد کو بھی صحت کارڈ فراہم کئے جا رہے ہیں، تھرپارکر اور فاٹا کے تمام خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کیا گیا، ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر قسم کی بیماری کے علاج و آپریشن کی سہولت موجود ہے۔







