اسلام آباد ۔ 31 دسمبر (اے پی پی) پاکستان کسٹمزنے بین الاقوامی معیار کے مطابق کارگو کلیئرنس سے متعلقہ رسک منیجمنٹ پر مبنی نظام کے قوانین مرتب کرلئے ہیں ، ان قوانین کی وجہ سے ہائی رسک درآمد ی اور بر آمدی اشیا ء کی نشاندہی ممکن ہوپائے گی اور کم سے کم وقت میں کارگو کی کلیئرنس کر دی جائے گی، جس کے باعث بندرگاہوں پر کارگو جمع نہیں …
پاکستان کسٹمزنے بین الاقوامی معیار کے مطابق کارگو کلیئرنس سے متعلقہ رسک منیجمنٹ پر مبنی نظام کے قوانین مرتب کرلئے، ایف بی آر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 دسمبر (اے پی پی) پاکستان کسٹمزنے بین الاقوامی معیار کے مطابق کارگو کلیئرنس سے متعلقہ رسک منیجمنٹ پر مبنی نظام کے قوانین مرتب کرلئے ہیں ، ان قوانین کی وجہ سے ہائی رسک درآمد ی اور بر آمدی اشیا ء کی نشاندہی ممکن ہوپائے گی اور کم سے کم وقت میں کارگو کی کلیئرنس کر دی جائے گی، جس کے باعث بندرگاہوں پر کارگو جمع نہیں ہوگا بلکہ فوراکلیر کر دیا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے منگل کو اس حوالہ سے جاری بیان کہا گیا ہے کہ پاکستان کسٹمز نے عالمی تجارتی تنظیم کے تجارتی سہولتی معاہدہ کے آرٹیکل 7.4 کے تحت کار گو کلیئر نس سے متعلقہ رسک منیجمنٹ نظام پر مبنی قوانین مرتب کر لئے ہیں۔ پاکستان کسٹمز نے نظر ثانی شدہ کیوٹو کنونشن کے تحت رسک منیجمنٹ کو کافی عرصے سے اختیار کررکھا ہے ۔ترجمان ایف بی آر کے مطابق تجارتی سہولتی معاہدہ پر عمل درآمد کے لئے کسٹمز ایکٹ 1969ء میں فنانس ایکٹ 2019 ء کے زریعے ترامیم کی گیئں۔اب تجارتی سہولتی معاہدہ کے آرٹیکل 7.4 پر عمل در آمد کے لئے بین الاقوامی معیار کے مطابق کار گو کلیئرنس سے متعلقہ رسک منیجمنٹ پر مبنی نظام کے قوانین مرتب کئے گئے ہیں۔ ان قوانین کی بدولت ہائی رسک درآمد ی اور بر آمدی اشیاء کی نشاندہی ہو پائے گی اور کم سے کم وقت میں کلیئرنس کر دی جائے گی، جس کے باعث پورٹس پر کارگو جمع نہیں ہوگا بلکہ فوراً کلیر کر دیا جائے گا ، ان اقدامات سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی اور ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ ترجمان کے مطابق 27 اکتوبر 2015 کو پاکستان نے عالمی تجارتی تنظیم کے تجارتی سہولتی معاہدہ کی توثیق کی۔ تجارتی سہولتی معاہدہ کے آرٹیکل 7.4 کے تحت تمام رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ درآمدات اور بر آمدات اور ٹرانزٹ آمدورفت کی بہتری کیلئے رسک مینجمیٹ پر مبنی موثر کسٹمز کنٹرول نظام متعارف کروائیں۔ جس پر عمل درآمد کے بعد تجارت کو فروغ ملے اور کارگو کے تحفظ اور بر وقت کلیئرنس کو یقینی بنا یا جائے۔ آرٹیکل 7.4 میں مزید یہ وضاحت کی گئی ہے کہ رکن ممالک ہائی رسک اشیا ء کی آمدورفت سے متعلقہ بارڈر کنٹرول اور کسٹمز کنٹرول وضع کریں اور ہائی رسک نہ ہونے والی اشیا ء کوفوراً کلیر کر دیا جائے تاکہ عالمی تجارت فروغ پائے۔ رسک پر مبنی اس نظام کی بدولت پاکستان کسٹمز ہائی رسک اشیاء اور کم رسک اشیا ء کی کلیئرنس کا الگ الگ نظام اپنائے گی جس کی وجہ سے کم رسک اشیاء کو فوراً ریلیز کر دیا جائے گا۔ترجمان نے بتایا کہ کارگو کلیئرنس سے متعلقہ قوانین کو شائع کیا جارہا ہے اور اسے ایف بی آر کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیا جا رہا ہے تاکہ تمام سٹیک ہولڈرز اور عام شہریوں سے ان کی آراء لی جائے۔ ترجمان نے کہاکہ قیمتی آراء حا صل ہونے کے بعد ہی قوانین کو حتمی شکل دی جائے گی۔







