اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جموں وکشمیر کے تنازعہ کے فریق ہونے کے ناطے پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں آزادانہ اورغیرجانبدارانہ استصواب رائے کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کرداراداکرنے کیلئے تیارہے،ہم کشمیری عوام کے حق خودارادی کو یقینی بنانے تک کشمیری عوام کی مضبوط اورغیرمتزلزل اخلاقی، سیاسی اورسفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ …
وزیراعظم عمران خان کا یوم حق خودارادیت کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جموں وکشمیر کے تنازعہ کے فریق ہونے کے ناطے پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں آزادانہ اورغیرجانبدارانہ استصواب رائے کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کرداراداکرنے کیلئے تیارہے،ہم کشمیری عوام کے حق خودارادی کو یقینی بنانے تک کشمیری عوام کی مضبوط اورغیرمتزلزل اخلاقی، سیاسی اورسفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بات یوم حق خودارادیت کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں کہی ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہرسال 5 جنوری کا دن مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ہمارے عزم نو کومضبوط بناتا ہے، 5 جنوری 1949ءکو سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام کشمیری عوام کے حق خودارادی کیلئے آزادانہ اورغیرجانبدارانہ رائے شماری کا وعدہ اورعزم کیا تھا، یہ دن بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو ان وعدوں پر عمل درآمد کی یاددہانی کراتا ہے جو اس نے جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ کئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کی اہمیت مسملہ ہے اورانسانی حقوق کے تمام معاہدوں اورجنرل اسمبلی اورسلامتی کونسل کے فیصلوں میں اس کو تسلیم کیاگیاہے اوراس کی تائید کی گئی ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سلامتی کونسل جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے اور عزم میں ناکام ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر 72 سالہ غیرقانونی بھارتی قبضہ کشمیری عوام پر بربریت کی رزمیہ داستان ہے، 9 لاکھ کے قریب قابض افواج نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے خطے کو دنیاءکی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیاہے، 5 اگست 2019ءکے بعد بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں دہشت اورظلم وبربریت کے ایک نئے دورکاآغازکیاہے، خطے میں لاک ڈاون جاری ہے معصوم شہریوںبالخصوص خواتین ، بچوں اوربزرگوں کے انسانی حقوق کو بے رحمی سے پامال کیا جارہاہے۔وزیراعظم نے کہاکہ کشمیری عوام کو150 دنوں سے حیات، خوراک، صحت، آزادی اظہار، پرامن اجتماع، مذہبی آزادی اورسب سے بڑہ کر حق خودارادی سے محروم رکھا گیاہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں حالیہ ریاستی دہشت گردی کی لہر اوراقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی اقدامات ہندوانتہاپسند تنظیم آرایس ایس کے نظریہ سے متاثرہ بھارتی حکومت کے ہندواتوا نظریہ کے عکاس ہیں ۔وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زوردیا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں اورانسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو ذمہ دارقرار دینے کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم کشمیری عوام کے حق خودارادی کو یقینی بنانے تک کشمیری عوام کی مضبوط اورغیرمتزلزل اخلاقی، سیاسی اورسفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔








