اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے وژن کے تحت نئی ایوی ایشن پالیسی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت وضع کردہ شرائط پر پورا اترنے کے بعد ٹورزم پروموشن لائسنس ایئر کرافٹ سیلز اینڈ سروسز کو دیا جا رہا ہے، حکومت نے معیشت ، سیاحت اور ہوا بازی کی صنعت کے فروغ کے لئے اقدامات …
وفاقی وزیر غلام سرور خان کا پاکستان کے پہلے سیاحتی لائسنس کے اجراءکے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے وژن کے تحت نئی ایوی ایشن پالیسی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت وضع کردہ شرائط پر پورا اترنے کے بعد ٹورزم پروموشن لائسنس ایئر کرافٹ سیلز اینڈ سروسز کو دیا جا رہا ہے، حکومت نے معیشت ، سیاحت اور ہوا بازی کی صنعت کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں، قدرت نے پاکستان کو تمام نعمتوں اور موسموں سے نوازا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان کے پہلے سیاحتی لائسنس کے اجراءکے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد پاکستان سول ایوی ایشن نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں دنیا کے 85 ممالک میں سیاحت کے غرض سے گیا مگر پاکستان جیسی خوبصورت اور دلکش سرزمین نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت ، سیاحت اور ہوا بازی کی صنعت کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایوی ایشن پالیسی 2019ءکی تشکیل کے لئے ایوی ایشن ڈویژن کی انتھک کوششوں اور کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ ٹوررازم پروموشن و ریجنل انٹیگریشن (ٹی پی آر آئی)لائسنس کے لئے علیحدہ کلاس متعارف کرانا بھی پاکستان میں سیاحت اور علاقائی رابطہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ موقع سیاحت کے فروغ کے لئے وزیر اعظم پاکستان کے وژن کا ادراک ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نئی سفری حکمت عملی اپنے عوام کو کسی سفری مشکلات کے بغیر پاکستان کی خوبصورتی کومسخر کرنے کا موقع فراہم کرنے کی جانب درست قدم ہے۔ لوگ اب اپنی پسندیدہ پر فضا مقامات کا سفر اور وہاں زیادہ سے زیادہ وقت بغیر کسی پریشانی کے گزار سکیں گے۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان میں سیاحت کی صنعت نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ماضی میں دہشت گردی، سلامتی اورامن وامان کی صورتحال، مناسب اور محفوظ سفر بنیادی وجوہات رہیں جس کی وجہ سے سیاحتی صنعت تنزلی کا شکار رہی اور غیر ملکی سیاحوں کے پاکستان آنے میں رکاوٹ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب حالات بتدریج تبدیل ہو رہے ہیں، ہم نے کامیابی کے ساتھ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔ الحمداللہ آج پاکستان ایک محفوظ سیاحتی منزل ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بہتر ہوئے حالات سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کی استعداد بھی موجود ہے، یہ لائسنس مذہبی سیاحت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں سکھوں اور بدھ مذہب کے مقدس مقامات موجود ہیں جو پاکستان میں ٹورازم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے ٹی پی آر آئی لائسنس کا اجراءکیا، یہ لائسنس ایئرکرافٹ سیلز اینڈ سروس لمیٹڈ کو دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن حسن ناصر جامی نے کہا کہ ٹورزم پالیسی کیلئے ایوی ایشن کے تمام شعبوں نے اپنا بہترین ان پٹ دیا۔پوری دنیا میں سیاحت کے حوالے سے پاکستان کو پذیرائی حاصل ہے۔ نئے لائسنس کے اجراءسے ملک میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔ ایوی ایشن پالیسی پر عملدرآمد سب سے بڑا چیلنج ہے۔پہلا ٹورزم پروموشن لائسنس نجی کمپنی کو دیا جا رہا ہے۔








