پاکستان کمیشن آف انکوائری بل 2016ئ‘ اپوزیشن کے پیش کردہ بل سے بہتر ہے‘ اپوزیشن صرف پانامہ پیپرز میں شامل ناموں پر انکوائری کمیشن بنوانا چاہتی ہے، حکومت ٹیکس معاف کرانے والوں ‘مختلف ممالک میں غیر رجسٹرڈ کمپنیوں‘ غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی ‘قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کا پریس کانفرنس سے خطاب اسلام …
وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
پاکستان کمیشن آف انکوائری بل 2016ئ‘ اپوزیشن کے پیش کردہ بل سے بہتر ہے‘ اپوزیشن صرف پانامہ پیپرز میں شامل ناموں پر انکوائری کمیشن بنوانا چاہتی ہے، حکومت ٹیکس معاف کرانے والوں ‘مختلف ممالک میں غیر رجسٹرڈ کمپنیوں‘ غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی ‘قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے
وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔02 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری بل 2016ئ‘ اپوزیشن کے پیش کردہ بل سے بہتر ہے‘ اپوزیشن صرف پانامہ پیپرز میں شامل ناموں پر انکوائری کمیشن بنوانا چاہتی ہے جبکہ حکومت ٹیکس معاف کرانے والوں ‘مختلف ممالک میں غیر رجسٹرڈ کمپنیوں‘ غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی ‘قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ وہ جعمہ کو پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پانامہ پیپرز کا انکشاف ہوا تو وزیراعظم نے قوم سے خطاب کر تے ہوئے اپنے آپ کو احتساب کےلئے پیش کرنے کا اعلان کیا‘ ہم نے 1956ءایکٹ کے تحت انکوائری کمیشن بنانے کےلئے سپریم کورٹ کو خط لکھا‘ سپریم کورٹ کی آبزوریشن پر ہم نے پاکستان کمیشن آف انکوائری بل 2016ءمرتب کیا ہے‘ 1956ءایکٹ کے تحت انکوائری کمیشن بنایا گیا تو مخالفین نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت کمیشن کے اختیارات محدود ہوں گے جس کے بعد ہم نے نیا بل مرتب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے سینٹ میں پیش کئے جانے والے بل سے ہمارا بل بہتر ہے، اس بل کے تحت تمام اتھارٹیز اور بیرون ملک گواہان کو بھی انکوائری کمیشن طلب کر سکے گا۔ اس بل کے تحت کوئی بھی شخص انکوائری کے دوران کاغذات جمع کرا سکتا ہے۔








