اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ کاٹن کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کی جائیں، سیڈ ایکٹ میں ترمیم اور کاٹن کمیٹی کی از سر نوتکمیل کو جلد مکمل کیا جائے۔ پیر کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ملک میں کاٹن پالیسی اور کپاس کی فصل سے متعلق معاملات پر اعلیٰ سطحی …
ماضی میں کپاس کی پیداوار میں اضافے اور فروغ کے حوالے سے مختلف درپیش مسائل دور کرنے کو نظر انداز کیا جاتا رہا جس کا نتیجہ نہ صرف کسانوں کی بددلی اور پیداوار میں مسلسل کمی کی صورت میں برآمد ہوا بلکہ ٹیکسٹائل کی صنعت اور ملکی برآمدات متاثر ہوئیں، وزیر اعظم عمران خان کا کاٹن پالیسی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ کاٹن کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کی جائیں، سیڈ ایکٹ میں ترمیم اور کاٹن کمیٹی کی از سر نوتکمیل کو جلد مکمل کیا جائے۔ پیر کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ملک میں کاٹن پالیسی اور کپاس کی فصل سے متعلق معاملات پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین، ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کاٹن کے کاشتکار، برآمد کنندگان اور کاٹن کمیٹی ممبران شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی معیشت اور مجموعی پیداوار میں کپاس کی فصل کا شیئر، کاٹن کی پیداوار، کاٹن کی برآمدات و درآمدات کی صورتحال، ملک میں کپاس کی فصل میں پیداواری اضافے اور اس سے منسلک مختلف چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کی فصل ملکی معیشت اور ملکی مجموعی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وزیرِ اعظم نے مختلف ملکوں میں کپاس کی پیداوار کی شرح اور ملک کی اوسط پیداوار میں واضح فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں کپاس کی پیداوار میں اضافے اور اس فصل کے فروغ کے حوالے سے مختلف درپیش مسائل دور کرنے خصوصاً نئے بیجوں کی کاشت، ٹیکنالوجی کے فروغ، کاشت کے جدید طریقوں کو اپنانے اور کسانوں کی مالی معاونت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ جس کا نتیجہ نہ صرف کسانوں کی بددلی اور پیداوار میں مسلسل کمی کی صورت میں برآمد ہوا بلکہ ٹیکسٹائل کی صنعت اور ملکی برآمدات متاثر ہوئیں۔اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کاشت کاروں، ایپٹما و دیگر متعلقین کے اشتراک اور مشاورت سے کاٹن کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کپاس کی فصل کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کو برو¿ے کار لانے کے حوالے سے چین کی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔ کپاس کی فصل کے فروغ کے حوالے سے چین کے اشتراک سے ملتان میں سنٹر آف ایکسی لینس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ کپاس کی فصل کو پنک بال ورم (گلابی سنڈی) سے بچانے کے لئے حکومت پرائم منسٹر ایمرجنسی پروگرام کے تحت پنک بال روپ ٹیکنالوجی درآمد کر رہی ہے۔یہ ٹیکنالوجی کسانوں کو نہایت سستی میسر آئے گی۔ چین کی معروف کمپنی سی ایم ای سی کی جانب سے بلوچستان میں کاٹن فارمنگ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اورصوبہ سندھ میں بھی کاٹن کی فصل کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کاشتکاروں کے مطالبے پر سیڈ ایکٹ میں ترمیم، سنٹرل کاٹن کمیٹی کی از سر نو تشکیل عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ سنٹرل کاٹن کمیٹی اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کر سکے اور شعبے میں جدید ریسرچ کو فروغ دیا جائے ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سیڈ ایکٹ میں ترمیم اور کاٹن کمیٹی کی از سر نو تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے۔کاٹن کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ، وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور کامرس ڈویژن کو ہدایت کی کہ سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز کا جائزہ لیا جائے اور سفارشات پیش کی جائیں۔








