قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے اے پی پی ترمیمی بل2019 ئ، پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2019 ءاتفاق رائے سے منظور کر لئے بلز دونوں ایوانوں کے آئندہ اجلاسوں میں پیش کئے جائیں گے ، پیمرا کو تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ ویب چینلز کے حوالے سے رولز بنانے کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے اے پی پی ترمیمی بل2019 ءاور پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2019 ءکو اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے، بل کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے دونوں ذیلی ادارے 6 ماہ میں رولز کی تشکیل کریں گے ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین …

اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے اے پی پی ترمیمی بل2019 ءاور پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2019 ءکو اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے، بل کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے دونوں ذیلی ادارے 6 ماہ میں رولز کی تشکیل کریں گے ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی میاں جاوید لطیف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوںگے ۔ چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ ، ایم ڈی اے پی پی طارق محمود خان ، وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام اور کمیٹی کے اراکین انجینئر عثمان خان ترکئی، طاہر اقبال ،محمد اکرم، محمد عالمگیر خان،آفتاب جہانگیر، خواجہ سعد رفیق، مائزہ حمید، صائمہ ندیم،کنول شوزب، ناز بلوچ نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔کمیٹی نے پرائیویٹ نیوز چینلز پر پیمرا کا موثر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پیمرا حکام کو ہدایات دیں کہ موجودہ رولز میں ترمیم تجویز کرے تا کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ حکومت سندھ کی جانب سے خیر پور سندھ میں 2010-11 میں ریڈیو سٹیشن کے لئے ٹرانسمیٹر کی خریداری کے لئے جاری ہونے والے 100ملین کے فنڈز کے غلط استعمال کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیں جائیں اور ذمہ داران کا تعین کر کے انھیں سخت سزا دی جائے اور بھاری جرمانہ بھی کیا جائے اس کی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے ۔ کمیٹی نے اے آر وائی چینل کے پروگرام سے متعلق پابندی عائد کرنے اور بعد ازاں یہ فیصلہ واپس لینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ادارے کی توقیر میں کمی آئی ہے ۔چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ نے کمیٹی کو بتایا کہ اے آر وائی چینل پر14جنوری کاشف عباسی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں ہونے والے واقعہ کے بعد انتظامیہ کو ذاتی شنوائی کے لئے نوٹسز جاری کیے گئے ،24 جنوری کو سماعت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ پیمرا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اے آر وائی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اس واقعہ کو بار بار نشر نہ کریں لیکن اے آر وائی انتظامیہ نے یہ بات نہیں مانی جس پر پیمرانے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے ۔کمیٹی نے پیمرا کو ہدایت کی کہ وہ ویب چینلز کے حوالے سے بھی اپنے رولز بنائے اس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے ۔ کمیٹی نے ایم این اے فخر امام کے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ترمیمی بل 2019 ءاور پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2019 ءکو اتفاق رائے سے منظورکر لیا۔ بل کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے دونوں ذیلی ادارے 6 ماہ میں رولز وضع کریں گے۔