اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے کا کوئی بحران نہیں، گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا کو آٹے کی فراہمی سے صورتحال میں بہتری آئے گی، آٹے کی قیمت میں کمی آ رہی ہے۔ منگل کو ایوان بالا میں ملک میں آٹے کی قلت کے حوالے …
ملک میں آٹے کا کوئی بحران نہیں، گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق مخدوم خسرو بختیار کا ایوان بالا میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے کا کوئی بحران نہیں، گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا کو آٹے کی فراہمی سے صورتحال میں بہتری آئے گی، آٹے کی قیمت میں کمی آ رہی ہے۔ منگل کو ایوان بالا میں ملک میں آٹے کی قلت کے حوالے سے گزشتہ روز ہونے والی بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست سے بالاتر ہو کر ایوان کو حقائق سے آگاہ کروں گا۔ اس وقت ملک میں وافر مقدار میں گندم موجود ہے، سرکاری شعبہ کے پاس 40 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ ہے، جب نئے سیزن کی گندم آئے گی تو اس وقت بھی ہمارے پاس 8 لاکھ ٹن گندم موجود ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 48 لاکھ ٹن گندم رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ نے گندم سٹاک نہیں کی، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں کو گندم کی فراہمی کے لئے وفاقی حکومت نے اقدامات کئے ہیں۔ پاسکو نے سندھ کے لئے 4 لاکھ ٹن اور کے پی کے کیلئے ساڑھے چار لاکھ ٹن گندم مختص کی۔ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث گندم کی سپلائی متاثر ہوئی، سندھ نے 14 دن پہلے این ایل سی سے 3 لاکھ ٹن گندم اٹھانے کا معاہدہ کیا، سندھ کو روزانہ کی بنیاد پر 10 ہزار ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے۔ سندھ میں آٹا 60 روپے کلو تک پہنچ گیا تھا جو اب 54 روپے کلو ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو زیادہ گندم فراہم کی جا رہی تھی تاہم افغانستان سمگلنگ خدشہ کے پیش نظر اس پر چیک اینڈ بیلنس بڑھایا گیا جس سے گندم کی فراہمی متاثر ہوئی۔ خیبر پختونخوا کو اب سرکاری شعبہ سے پانچ ہزار ٹن اور نجی شعبہ سے پانچ ہزار ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمت 58 روپے فی کلو ہو گئی تھی جو اب 52 روپے فی کلو ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے یوریا کی بوری کی قیمت پر 400 روپے ٹیکس کم کیا ہے جس سے اس کی قیمت 20 فیصد کم ہو گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آٹے کا بحران جلد ختم ہو جائے گا، میڈیا چینلز پر چکی کے آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ چکی کا آٹا ملکی ضرورت کا چار سے پانچ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زائد گندم ہونے کے باعث اس کی برآمد کی اجازت دی گئی تاہم بعد میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں گندم کی امدادی قیمت بڑھائی گئی تاہم مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال کے دوران گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ موجودہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 1300 روپے فی من سے بڑھا کر 1365 روپے فی من مقرر کی۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ گندم اور آٹے کے بحران کا معاملہ سنجیدگی کا متقاضی ہے، اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہئے، اس لئے اس معاملہ کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا اور ایوان میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔








