برطانوی شہزادہ ہیری مستقل طور پر کینیڈا کے لئے روانہ ہوگئے

لندن۔ 21 جنوری (اے پی پی) برطانوی شہزادہ ہیری کینیڈا کے لئے روانہ ہوگئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ہیری اپنے تمام شاہی اعزازات سے دستبردار ہونے کے بعد برطانیہ سے کینیڈا روانہ ہوگئے جہاں وہ اپنی بیوی میگھن مرکل اور بیٹے آرچی کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ایک رپورٹ کے مطابق ولی عہد شہزادہ چارلس کے چھوٹے صاحبزادے شہزادہ ہیری آخری مرتبہ بطور شاہی عہدیدار لندن میں …

لندن۔ 21 جنوری (اے پی پی) برطانوی شہزادہ ہیری کینیڈا کے لئے روانہ ہوگئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ہیری اپنے تمام شاہی اعزازات سے دستبردار ہونے کے بعد برطانیہ سے کینیڈا روانہ ہوگئے جہاں وہ اپنی بیوی میگھن مرکل اور بیٹے آرچی کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ایک رپورٹ کے مطابق ولی عہد شہزادہ چارلس کے چھوٹے صاحبزادے شہزادہ ہیری آخری مرتبہ بطور شاہی عہدیدار لندن میں برطانیہ-افریقہ میں ہونے والی سرمایہ کاری کے اجلاس میں شرکت کے بعد وینکوور کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ان کی روانگی کو بکنگھم پیلس سے علیحدگی کی علامت سمجھا جائے گا جس کا اعلان دو دن قبل کیا گےا تھا کہ ملکہ کے حکم سے شہزادہ اور شہزادی برطانوی سرکاری مصروفیات سے مکمل علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔ شہزادہ ہیری نے سابق امریکی اداکارہ میگھن مرکل سے مئی2018 میں شادی کرنے کے بعد شاہی خاندان اور عوامی مصروفیات متوازن کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس اپنے نوزائیدہ بیٹے آرچی کے ساتھ پر امن زندگی گزارنے کے لئے شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ہیری ، جو شاہی لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہیں ، انہوں نے پیر کے روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ساتھ 20 منٹ کی غیر رسمی نجی ملاقات بھی کی جس پر وزیر اعظم نے دونوں میاں بیوی ہیری اور میگھن کی نئی زندگی کی شروعات کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق ہیری نے افریقی رہنماو¿ں کے اجلاس کے بعد ان کے لئے بکنگھم پیلس میں کیا گیا عشائیہ ترک کردیا تاکہ ان کے میزبان بھائی ولیم کی اس تقریب میں ان کے بارے میںکوئی سوال نہ کیا جا سکے ۔نئی جگہ مقیم ہونے کے فیصلے کے تحت ہیری اور میگھن اب اپنی دادی ملکہ الزبتھ کی نمائندگی نہیں کریں گے۔ انہیں اعزازی فوجی تقرریوں کو ترک کرنا ہوگا اور اب انہیں عوامی فنڈز نہیں مل پائیں گے۔ شہزادہ ہیری نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ خود پر یقین کا عقیدہ لے کر جارہے ہیں۔