اسلام آباد ۔ 27 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پشاور میں کفالت کے مالی معاونت کے نئے پروگرام کے آغاز کی حتمی تیاریوں کی نگرانی کیلئے بینک الفلاح کی شاخ کا دورہ کیا، جس کے تحت احساس کفالت پروگرام کے ذریعے مالی معاونت کی تقسیم کو ممکن بنایا جائےگا۔ پیر کو یہاں جاری بیان کے مطابق …
معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا پشاور میں کفالت کے مالی معاونت کے نئے پروگرام کے آغاز کی حتمی تیاریوں کی نگرانی کیلئے بینک الفلاح کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پشاور میں کفالت کے مالی معاونت کے نئے پروگرام کے آغاز کی حتمی تیاریوں کی نگرانی کیلئے بینک الفلاح کی شاخ کا دورہ کیا، جس کے تحت احساس کفالت پروگرام کے ذریعے مالی معاونت کی تقسیم کو ممکن بنایا جائےگا۔ پیر کو یہاں جاری بیان کے مطابق کفالت پروگرام بائیومیٹرک ادائیگی کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے ملک بھر کی لاکھوں خواتین کو محفوظ طریقے سے ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم کرے گا اور اسطرح خواتین کو ان کی زندگیوں میں پہلی مرتبہ بینک اکاﺅنٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔ پروگرام سے وہ خواتین مستفید ہوںگی جن کا کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہیںہے۔ ان خواتین کی نشاندہی پاکستان میں تین مراحل میں مکمل ہونے والے گھر گھر سروے کے تحت کی جارہی ہے اور اس دوران رہ جانے والے گھرانے کو دوبارہ اپیل دائر کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے دورے کے دوران کہا کہ احساس کفالت پروگرام حکومت کا اہم جزو ہے جس کا مقصد فلاحی ریاست کی تشکیل ہے جو معاشرے کے غریب افراد کی مدد کرے۔ سابقہ مالی معاونت کے پروگراموں کے تحت خواتین کو رقم کے حصول کیلئے لمبا سفر طے کرنا پڑتا تھا اور اکثر و بیشتر وہ کسی لالچی ایجنٹ کے ہاتھوںزیادتی کا نشانہ بنتی تھیں۔ نئے نظام کے تحت خواتین بائیومیٹرک اے ٹی ایمز اور شاخوں پر جاسکیں گی جن کی بدولت وہ مالی نظام میں شامل ہوتے ہوئے بااختیار ہوں گی اور لالچی ایجنٹ کی کرپشن سے محفوظ رہ سکیں گی۔ اس دورے کے دوران ڈاکٹر نشتر نے مشاہدہ کیا کہ بینک الفلاح ان افراد کو کیسا ماحول فراہم کرتا ہے جنہوں نے پہلے کبھی بینک کی سروسز استعمال نہیں کیں، جس میں فنگر پرنٹ سکیورٹی کے نئے نظام کے ذریعے مستحقین کی رہنمائی کے طریقے شامل ہیں۔ نیا نظام اب منی آرڈرز یا ادائیگی کارڈوں پر انحصار نہیں کرے گا اور یہ آپشن بھی فراہم کرے گا جو پہلے سے خواتین کو سیونگ اکاﺅنٹ بنانے کیلئے موجود نہیں تھی۔ مستحقین کے پاس اب بائیومیٹرک ریٹیل شاپ، بائیومیٹرک طور پر فعال اے ٹی ایم یا متعلقہ بینکوں کی کسی بھی بائیومیٹرک برانچ کا آپشن موجود ہوگا۔ بینک الفلاح ان دو بینکوں میں سے ایک ہے جسے10ماہ پر مبنی شفاف عمل کے بعد کے پی، جی بی اور اے جے کے میں ادائیگیوں کی تقسیم کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔ دوسرا بینک حبیب بینک لمیٹڈ ہے۔ دونوں بینک پورے ملک میں خواتین کو باعزت طریقے سے ادائیگیاں فراہم کرنے کی سہولت دے رہے ہیں۔ پشاور میں بینک الفلاح کے نئے بائیومیٹرک اے ٹی ایم کے افتتاحی موقع پر ضم شدہ اضلاع کے لئے وزیر اعلی کے مشیر اجمل وزیر نے ڈاکٹر نشتر کے ہمراہ شرکت کی۔ افتتاح کے موقع پر بینک کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔ بعد ازاں، ڈاکٹر نشتر نے وزیر اعلی کے پی محمود خان سے ملاقات کی اور انہیں کفالت پروگرام کے بارے میں بتایا۔ اس وقت معاشرے کی غریب خواتین ڈیجیٹل اور مالی نظام سے باہر ہیں۔ کفالت احساس پروگرام کی 130سے زائدپالیسیوں میں سے ایک ہے، ان میں سے بہت سی پالیساں خاص طور سے خواتین کو بااختیار بنانے اور لوگوں کوغربت سے باہر نکالنے کے اقدامات پر مشتمل ہیں۔ پالیسی سے متعلق مزید تفصیلات 31جنوری کو سرکاری طور پر اس پالیسی کے اجراءکے موقع پر دی جائیں گی۔








