ہیمبرگ/اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) جرمنی میں کشمیری اور سکھ کمیونٹی نے بھارت کے یوم جمہوریہ پر مشترکہ طور پر یوم سیاہ منایا، ہیمبرگ سٹی سنٹر میں احتجاجی ریلی اور مارچ کا انعقاد بھی کیا گیا، سکھوں کے ساتھ ظلم او مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی دشتگردی کے خلاف نعرے بازی کی گی، بھارت ایک دہشتگرد ملک ہے اور مودی ہٹلر کے نقش قدم پر چل رہا …
جرمنی میں مقیم کشمیریوں اور سکھوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا

مزید خبریں
ہیمبرگ/اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) جرمنی میں کشمیری اور سکھ کمیونٹی نے بھارت کے یوم جمہوریہ پر مشترکہ طور پر یوم سیاہ منایا، ہیمبرگ سٹی سنٹر میں احتجاجی ریلی اور مارچ کا انعقاد بھی کیا گیا، سکھوں کے ساتھ ظلم او مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی دشتگردی کے خلاف نعرے بازی کی گی، بھارت ایک دہشتگرد ملک ہے اور مودی ہٹلر کے نقش قدم پر چل رہا ہے، مودی نے بھارت میں اقلیتوں اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، کشمیر کو مکمل طور پر لاک ڈاﺅں کر رکھا ہے۔ چھ ماہ سے مسلسل کرفیو ہے سکھوں کی تحریک آزادی کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے کی کوشش انسانی حقوق کی پامالیاں کر رہا ہے اسے بند کرایا جائے۔ کشمیری، پاکستانی سکھوں اور انسانی حقوق کی مختلف سرکردہ تنظیموں کے رہنماﺅں نے مظاہرے کا اہتمام کیا۔ تحریک کشمیر جرمنی ہمبرگ کے صدر ریاض شاہد گھمن، مسلم لیگ (ن) یوتھ جرمنی کے رہنما رانا عامر محمود، تحریک انصاف جرمنی کے مرکزی رہنما حافظ عظیم شیخ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ظالم، قاتل اور عزتوں کا دشمن ملک ہے۔ بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں انسانوں کی کوئی قدر نہیں۔ جمہوریت کے نام پر انسانوں کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی پر دہشتگردی کے الزام میں یورپ اور امریکہ کے داخلے پر پابندی تھی۔ آج مودی نے جس طرح کے حالات پیدا کر رکھے وہ خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل پر بھارت کے عوام بھی مودی کے خلاف احتجاج کر تے ہوئے سڑکوں پر کھڑے ہیں۔ مودی کے ہاتھوں کسی کی جان مال اور عزت محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا دہشتگرد تنظیوں کے ساتھ تعلق ہے اور انہیں قتل عام کی کھلی اجازت دے رکھی ہے ۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اور کتبے آٹھا رکھے تھے وہ کشمیر اور خالصتان کی آزادی کے نعرے لگا رہے تھے ان کا مطالبہ تھا کہ بھارت کو دہشتگرد ملک قرار دیا جائے۔ کشمیر سے درندہ صفت بھارتی فوج کو نکالا جائے اور مسئلہ کشمیر کو پُرامن طور پر حل کیا جائے۔ مظاہرے میں کشمیری، پاکستانی، سکھ اور انڈین کمیونٹی کے سیاسی، سماجی، مذہبی رہنماﺅں نے شرکت کی اور مودی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کی حکومت اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیںانتہائی سنگین صورت حال پر توجہ دیں اور مسئلہ کشمیر اور خالصتان کو حل کیا جائے۔








