اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس نے کہا ہے کہ ملک بھر کے مستحق نادار افراد کی فلاح و بہبود، علاج معالجہ کی سہولیات تک سہل رسائی اور سرکاری شعبہ کی جامعات کے مستحق طلباءکو تعلیمی وظائف کی فراہمی ترجیح ہے، بیواو¿ں اور یتیموں کی کفالت وبا اختیاری اور خصوصی افراد بالخصوص پیدائشی طور پر قوت سماعت سے محروم بچوں …
بیت المال اپنی ذمہ داریاں انتہائی حساسیت کے تحت سر انجام دے رہا ہے، عون عباس منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس نے کہا ہے کہ ملک بھر کے مستحق نادار افراد کی فلاح و بہبود، علاج معالجہ کی سہولیات تک سہل رسائی اور سرکاری شعبہ کی جامعات کے مستحق طلباءکو تعلیمی وظائف کی فراہمی ترجیح ہے، بیواو¿ں اور یتیموں کی کفالت وبا اختیاری اور خصوصی افراد بالخصوص پیدائشی طور پر قوت سماعت سے محروم بچوں کوکم ازکم اذان کی آواز سننے کے قابل بنانے کے لئے سمعی آلات، وہیل چیئرز اور مصنوعی اعضائ کی فراہمی کے لئے بیت المال اپنی ذمہ داریاں انتہائی حساسیت کے تحت سر انجام دے رہا ہے، دارالاحساس کی تعداد 36 سے بڑھاکر 55 کر دی گئی ہے جو رواں سال 80 کر دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی خبر رساں ادارہ ”اے پی پی“ کے دورہ اور خصوصی پینل انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ادارے کے مختلف شعبوں کا بھی دورہ کیا۔ اے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غواث خان اور ڈائریکٹر نیوزشفیق قریشی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈائریکٹر نیوز شفیق قریشی نے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کو مصدقہ خبروں، تصاویر، اور ویڈیونیوز رپورٹس کی فراہمی اور کثیر زبانوں میں خبروںکے اجراءکے حوالے سے اے پی پی کے پیشہ وارانہ امور پر معزز مہمان کو بریفنگ دی۔ مینجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی نے قومی خبر رساں ادارے کی پیشہ وارانہ خدمات کو سراہا اور کہا کہ موقر اور مصدقہ خبروں کی فراہمی کے حوالے سے ” اے پی پی“ کا منفرد کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال کے مینجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری میرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں، 15 ماہ میں خدمت کا جو موقع ملا اس سے پہلے کبھی نہیں ملا وزیر اعظم عمران خان نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اترنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال تربت سے ہنزہ تک سرکاری شعبہ کی 80 جامعات کے مستحق اور قابل طلبائ کو تعلیمی وظائف کے حوالے سے خود خطوط ارسال کئے تاکہ ادارہ اعلی تعلیم کے لئے بھی حکومتی کوششوں میں حصہ ڈال سکے، انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ کی 40 یونیورسٹیوں کے ساتھ ایم او یو پر دستخط ہو گئے ہیں جس کے تحت مستحق اورر قابل طلبائ کے لئے ایک لاکھ روپے تک تعلیمی وظائف دیئے جائیں گے جبکہ باقی ماندہ یونیورسٹیوں کے ساتھ بھی جلد ایم او یو دستخط کر لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال نے محدود وسائل کے باوجود اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک بھر کی سرکاری شعبہ کی جامعات کے 8500 مستحق طلبائ کو گزشتہ ایک سال کے دوران تعلیمی وظائف فراہم کئے۔ پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر عون عباس بپی نے بتایا کہ اس وقت مستحق طلبہ کو ایک لاکھ روپے تک کے وظائف کی ادائیگی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال نے اس پروگرام کے تحت پچاس فیصد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المال نے پہلے ہی 80 سرکاری شعبہ کی جامعات کو خطوط ارسال کر چکا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے 50 فیصد مستحق طالبات کو یقینی بناتے ہوئے مستحق طلبائ کے نام تعلیمی وظائف کے لئے بھجوائیں۔ اعلی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مستحق طلبہ و طالبات کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کے لئے بیت المال 40 یونیورسٹیوں کے ساتھ پہلے ہی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر چکا ہے۔ پاکستان بیت المال نے رواں مالی سال کے دوران 2633 طلبہ و طالبات کو تعلیمی اعانت فراہم کر چکا ہے اور 18 ہزار 375 طلبائ و طالبات کو تعلیمی وظیفے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ گزشتہ برس 47 ہزار طلبائ کو تعلیمی وظائف اور 40 ہزار سے زائد طلبہ کو تعلیمی اعانت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 55 تھیلیسیمیا سنٹر ملک بھی میں کام کر رہے ہیں جہاں مستحق بچوں کومحفوظ انتقال خون کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پتے کے بڑھنے کے تدارک کے لئے بھی 10 ہزار روپے کی مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیت المال کے رفاحی کاموں میں سفارش اور بد عنوانی کا عنصر صفر ہے جس سے ادارے کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوا ہے ملک بھر میں عملہ کو تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ خوش گفتار اور خوش لباس عملہ بہتر انداز میں استفادہ کرنے والوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے 2 ارب روپے اور کینسر کے مریضوں کو 10 لاکھ روپے تک کا مفت علاج کرانے کے لئے اعانت کی گئی ہے۔ ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ یتیم بچوں کے لئے دارالاحساس 36 تھے موجودہ حکومت کے آنے کے بعد یہ تعداد 55 ہو گئی ہے اور رواں سال کے دوران یہ تعداد 80 ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دارالاحساس مراکز میں دینی و عصری علوم کے ساتھ ساتھ بہتر تعلیم و تربیت، معیاری غذائیت سے بھر پور خوراک اور رہائش کا بہترین ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔








