یورپی پار لیمنٹ میں بھارت کےخلاف قرارداد، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے یورپی پارلیمنٹ کے 751 اراکین کوخط لکھ دیا

لاہور۔28 جنوری(اے پی پی) یورپی پار لیمنٹ میں بھارت کےخلاف قرارداد کے سلسلہ میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے یورپی پارلیمنٹ کے 751 اراکین کوخط لکھ دیا جس میں بھارتی شہر یت قانون،کشمیر یوں پر مظالم کے خلاف قرارداد جمع کروانے پر شکر یہ ادا کیا گیا ہے ،خط میں اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے7 کنونشنز کی خلاف ورزی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ،گورنر پنجاب چوہدری …

لاہور۔28 جنوری(اے پی پی) یورپی پار لیمنٹ میں بھارت کےخلاف قرارداد کے سلسلہ میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے یورپی پارلیمنٹ کے 751 اراکین کوخط لکھ دیا جس میں بھارتی شہر یت قانون،کشمیر یوں پر مظالم کے خلاف قرارداد جمع کروانے پر شکر یہ ادا کیا گیا ہے ،خط میں اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے7 کنونشنز کی خلاف ورزی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ،گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بھارتی مظالم کے خلاف 30 جنوری کو قرارداد یورپی پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش جائیگی،یورپی اراکین پار لیمنٹ 30 جنوری کو قرارداد کی منظوری کیلئے اپنا کردار ادا کریں،خط میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور سی اے اے قانون بھارتی دہشت گردی ہے،بھارتی متنازعہ شہریت بل دنیا میں سب سے بڑے کرائسز کو جنم دے رہا ہے،گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں ، یورپی یونین کے کنونشنز کی خلاف ورزی کی ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین اور ممبر ممالک نے ہمیشہ بین الاقوامی ایشوز پر کھل کر بات کی ہے جو خوش آئند ہے،گورنر پنجاب نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ یورپی یونین اور ممبر ممالک مسئلہ کشمیر کے حل اور شہریت بل کی منسوخی کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان آج بھی امن کی بات کر رہا ہے،چوہدری محمد سرور نے موقف ا ختیار کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے برصغیر میں سیاسی، معاشی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں ،بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگا کر کشمیریوں کو پوری دنیا سے جدا کر رکھا ہے، وزیر اعظم عمران خان کشمیریوں کے سفیر بن کر دنیا میں انکا مقدمہ لڑ رہے ہیں، چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے کہ سی اے اے قانون مسلمانوں کو بنیادی حقوق سے مائنس کررہا ہے،خطے میں امن کےلئے مسئلہ کشمیر کا حل لازم و ملزوم ہے۔