امیر البحر ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی سری لنکن وزیراعظم مہندا راجا پاکسے،سیکرٹری دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان سے الگ الگ ملاقاتیں

اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے سری لنکا کے سرکاری دورہ کے دوران سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے، سیکرٹری دفاع میجر جنرل (ر) کمال گنارنے اور مسلح افواج کے سربراہان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق سری لنکا کے وزیراعظم اور سیکرٹری دفاع کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران علاقائی سلامتی و استحکام اور …

اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے سری لنکا کے سرکاری دورہ کے دوران سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے، سیکرٹری دفاع میجر جنرل (ر) کمال گنارنے اور مسلح افواج کے سربراہان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق سری لنکا کے وزیراعظم اور سیکرٹری دفاع کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران علاقائی سلامتی و استحکام اور باہمی دلچسپی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے پاکستان اور سری لنکا کے مابین دیرینہ دوستانہ تعلقات کو تسلیم کیا۔ معززین نے خطہ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کے اقدامات اورکردار کو سراہا۔ کولمبو میں نیول، آرمی اور ایئر فورس ہیڈکوارٹر زپہنچنے پر ایڈمرل کا متعلقہ سروس کمانڈز نے پرتپاک استقبال کیا اور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ نیول چیف نے سری لنکا کی بحریہ کے کمانڈر وائس ایڈمرل پیال ڈی سلوا، بری فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شیوندرا سلوا اور فضائیہ کے کمانڈر ایئر مارشل سمنگالا ڈیاس سے ملاقات کی۔ بات چیت کے دوران سمندری تحفظ اور دوطرفہ دفاعی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیول چیف نے سمندری دہشت گردی سمیت بحری قزاقی، علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی اور منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کےلئے پاک بحریہ کے عزم کو اجاگر کیا۔ معززین نے مختلف جہتوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور مختلف دفاعی شعبوں میں باہمی روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ امیرالبحر نے سری لنکا کے کمانڈر سدرن نیول ایریا ریئر ایڈمرل قصپا پاول، کمانڈر ایسٹرن نیول ایریا ریئر ایڈمرل میرل وکرماسنگھے اور نیول ڈاکیارڈ کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں آپریشنل امور پر بریفنگ دی گئی۔ نیول چیف نے مختلف بحری امور میں سری لنکا بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔ نیول چیف کا حالیہ دورہ دونوں ممالک کے مابین عموماً اور مسلح افواج کے مابین خصوصاً دفاعی تعلقات میں مزید اضافے کا باعث ہوگا۔