اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل دوطرفہ معاہدوں اور دوریاستی تصور کی بنیاد پر اسرائیل۔فلسطین تنازعہ کے حل میں مدد کے لئے تیار ہیں، ترجمان کا بیان

نیویارک ۔ 29 جنوری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹرس کے ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ کے سربراہ اس بات کے لئے پرعزم ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے اسرائیل اور فلسطین اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون، دوطرفہ معاہدوں اور دو ریاستی تصور کی بنیاد پر 1967ءکی جنگ سے قبل کی سرحدی پوزیشن کے مطابق حل پر آمادہ ہوجائیں اور …

نیویارک ۔ 29 جنوری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹرس کے ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ کے سربراہ اس بات کے لئے پرعزم ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے اسرائیل اور فلسطین اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون، دوطرفہ معاہدوں اور دو ریاستی تصور کی بنیاد پر 1967ءکی جنگ سے قبل کی سرحدی پوزیشن کے مطابق حل پر آمادہ ہوجائیں اور وہ اس سلسلے میں مدد دینے کے لئے تیار ہیں۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے ایک بیان میں بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے امریکی منصوبے کا جائزہ لیا ہے جس میںسلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوںکی روشنی میں دو ریاستوں کے قیام کو مسئلے کا حل بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل نے 2017ءمیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ایک کے مقابلے میں 14 ووٹوں کی اکثریت سے قرارداد منظور کی تھی جس میں اسرائیلی آبادکاریوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم 1967ءسے قبل کی تسلیم شدہ حدبندیوں کے اندر فلسطین اور اسرائیل کی الگ الگ ریاستیں قائم کرنے کے حوالے سے پر عزم ہیں۔