معاون خصوصی ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کو صحافیوں کے تحفظ، تنخواہوں اور بقایا جات کی ادائیگی کے معاملات پر بریفنگ

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے 2020کو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی آسانیوں کا سال قرار دیتے ہوئے ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی نوکریوں کے تحفظ ، ہیلتھ انشورنس اور ای او بی آئی سے رجسٹریشن کے لئے "جرنلسٹ پروٹیکشن قانون"مشاورتی عمل مکمل ہونے کے …

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے 2020کو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی آسانیوں کا سال قرار دیتے ہوئے ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی نوکریوں کے تحفظ ، ہیلتھ انشورنس اور ای او بی آئی سے رجسٹریشن کے لئے "جرنلسٹ پروٹیکشن قانون”مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان کا ویژن اور واضح ہدایات ہیں کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی ،نوکریوں کے تحفظ اور صحت کی سہولیات فراہمی کا معاملہ مستقل بنیادوں پر جلد حل کیا جائے ،تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے ،یہاں سے آنے والی تجاویز کو سن کے جامع حکمت عملی سامنے لائی جائے گی، سرکاری اشتہارات کی فراہمی کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے پی آئی ڈی کو ڈیجیٹلائزکر رہے ہیں ، اشاعت اور سرکولیشن کی اصل تعداد کے ساتھ ہی اشتہارات کی تقسیم کو یقینی بنایاجائے گا۔ وہ بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو صحافیوں کے تحفظ ،تنخواہوں اور بقایا جات کی ادائیگی کے معاملات پر بریفنگ دے رہی تھیں ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کی جبکہ چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ، پی آئی او رائے طاہر حسن ،ایم ڈی پی ٹی وی کے علاوہ متعلقہ اداروں کے حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم سب عوام کو جوابدہ ہیں ،معاشرے کا ایک جزو صحافی اور میڈیا ورکرز مسائل کاشکار ہیں جنہیں نکالنے کے لئے وزارت اطلاعات و نشریات، قائمہ کمیٹی ،اراکین پارلیمنٹ اپنی اپنی جگہ کوشش کررہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کا بھی یہی عزم اورمشن ہے کہ پسے ہوئے طبقات کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، وزارت اطلاعات و نشریات کی بھی یہ پہلی ترجیح ہے کہ میڈیا ورکرز اور صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور ادائیگیوں کا تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے آجر اور اجیر دونوں کو سن کر ضرورت کے مطابق قانون سازی کی جائے اس کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان کے پاس ایک موقع تھا لیکن اسے چیلنج میں تبدیل کر دیا گیا اور ہم سب ملکر اب اس چیلنج کو موقع میں تبدیل کرنے کے لئے بات چیت کر رہے ہیں ۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے جرنلسٹ پروٹیکشن قانون کا مسودہ تیار کیا ہے ،یہ مسودہ کمیٹی کے اراکین کو بھی دیں گے تا کہ ان کی ان پٹ بھی شامل ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان صحافیوں کو نوکریوں سے نکالنا ،تنخواہوں اور بقایا جات سمیت تمام چیلنجز سے آگاہ ہیں اور انہی کی ہدایات پر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کا عمل جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیا ہاﺅسز میں تنخواہوں اور بقایا جات کی ادائیگی کے ایشوز اس لئے بنے ہیں کہ میڈیا ہاﺅسز میں خدمات حاصل کرنے کے لئے تحریری معاہدے کے بجائے سادہ کاغذ پر دستخط کرائے جاتے ہیں اسی وجہ سے کسی بھی جگہ ان سے پوچھ نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر پریس انفارمیشن ڈیپارنمنٹ (پی آئی ڈی) میں اصلاحات لارہے ہیں ، پی آئی ڈی کی ڈیجیٹلائزیشن کی جارہی ہے، ایک ڈیش بورڈ بنارہے ہیں جس پر ہر اخبار کی اشاعت اور سرکولیشن جو حقیقت میں ہوگی وہ نظر آرہی ہوگی اور اسی کے مطابق مستقبل میں اشتہارات کی تقسیم ہوگی اس نظام سے شفافیت یقینی ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سرکولیشن کی بنیاد پر رجسٹرڈ اخبارات 4 ہزار 200 تھے جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اب ان کی تعداد 1680پر آگئی ہے ابھی بھی پڑتال کا عمل جاری ہے ، پہلے یومیہ 2کروڑ اخبارات شائع ہونے کی بنیاد پر اشتہارات جاری ہورہے تھے جب اس کو بھی باریک بینی سے چیک کیا تو نتیجہ یہ سامنے آیا کہ 9لاکھ 70ہزار اشاعت ہے،غلط سرکولیشن اعداد و شمار دیکر اشتہارات لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کا حل ایک قومی کاز ہے ،صحافی سب کی خبر لیتے ہیں لیکن ان کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے ابھی تک بقایا جات کی مد میں 87کروڑ 31لاکھ 54ہزار 814 روپے ادا کیے ہیں جن میں 57کروڑ 60لاکھ 11ہزار 739 پرنٹ میڈیا جبکہ 29کروڑ 29لاکھ 9ہزار 523روپے الیکٹرانک میڈیا کو دیئے گئے ہیں، اس وقت حکومت نے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو ایک ارب روپے ادا کرنے ہیں ۔