وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کا ’بی بی سی‘ کو دیئے گئے انٹرویو میںاظہار خیال

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی)وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ منظور پشتین پاکستانی شہری ہیں جنہوں نے ملک کا قانون توڑا، اسی لئے انہیں گرفتار کیا گیا، جہاں تک پشتونوں کی بات ہے، پشتون اس حکومت کے ساتھ ہیں، وزیراعظم عمران خان کی کوششوں سے اور قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے پشتون مرکزی دھارے میں شامل ہوئے ہیں، کسی بھی سیاسی رہنماءنے …

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی)وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ منظور پشتین پاکستانی شہری ہیں جنہوں نے ملک کا قانون توڑا، اسی لئے انہیں گرفتار کیا گیا، جہاں تک پشتونوں کی بات ہے، پشتون اس حکومت کے ساتھ ہیں، وزیراعظم عمران خان کی کوششوں سے اور قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے پشتون مرکزی دھارے میں شامل ہوئے ہیں، کسی بھی سیاسی رہنماءنے پہلے ایسا نہیں کیا جو عمران خان نے کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’بی بی سی‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ منظور پشتین پاکستانی شہری ہیں جنہوں نے ملک کا قانون توڑا، اسی لئے انہیں گرفتار کیا گیا۔منظور پشتین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ ملک کا قانون توڑیں گے تو آپ کو گرفتار کیا جائے گا، منظور پشتین نے ملک کا قانون توڑا ہو گا اسی لئے اسے گرفتار بھی کیا گیاانہوں نے کہا کہ جہاں تک پشتونوں کی بات ہے، پشتون اس حکومت کے ساتھ ہیں، تحریک انصاف حکومت کی دو تہائی اکثریت ہے، عمران خان پشتون اور قبائلی علاقوں میں اپنے ضلع سے زیادہ مشہور ہیں، وہ پشتونوں کے بھی لیڈر ہیں، وزیراعظم عمران خان کی کوششوں سے اور قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے پشتون مرکزی دھارے میں شامل ہوئے ہیں، کسی بھی سیاسی رہنماءنے پہلے ایسا نہیں کیا جو عمران خان نے کیا ہے، تو پھر پشتونوں کا لیڈر کون ہے منظور پشتین یا عمران خان؟ وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا موقف ہے کہ اگر آپ کسی چیز کا حل چاہتے ہیں تو مذاکرات کی ٹیبل پر آئیں، جنگ اور لڑائی سے کسی چیز کا حل نہیں ہوتی اور یہی ملک، قبائل، برادری اور عوام کے لئے اچھا ہے۔ منظور پشتین سے مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال میں جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایک آدمی سے مذاکرات کی ٹیبل پر بات کر رہے ہوں اور وہ جا کر قتل کر آئے یا کوئی اور جرم کر لے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس سے بات چیت کر رہے ہیں تو اس کو پکڑا بھی نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کام کرنا ہوتا ہے، جو مذاکرات کر رہے ہیں وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، اگر کوئی غلط کام کرے گا تو اسے پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منظور پشتین کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں مقدمہ درج ہوا ہے جس کے بعد ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دو تین روز قبل منظور پشتین کی پارٹی کے رہنما و رکن قومی اسمبلی نے ملک اور اداروں کے خلاف غلط الفاظ استعمال کئے اس لئے ان کو پکڑ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے کے بھی طریقے ہوتے ہیں، احتجاج کرنے کا مہذب طریقہ بھی موجود ہے لیکن انہوں نے غلط طریقہ اختیار کرتے ہوئے غلط طور پر احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں آزاد ہیںلہذا عدالتیںہی مقدمہ کا فیصلہ کریں گی۔