اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کو زیادہ سے زیادہ ملکی اور عوامی مفاد میں بنانے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان کی زمین کسی کو مفت میں نہیں دی جائے گی، بے شمار اصلاحات لائی جا رہی ہیں جبکہ مقامی افراد کو روز گار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کیلئے لوگوں کی …
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی کا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کے اجلاس میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کو زیادہ سے زیادہ ملکی اور عوامی مفاد میں بنانے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان کی زمین کسی کو مفت میں نہیں دی جائے گی، بے شمار اصلاحات لائی جا رہی ہیں جبکہ مقامی افراد کو روز گار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کیلئے لوگوں کی تربیت کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کے اجلاس میں کیا۔ اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گوادر پورٹ پر مقامی سروسز فراہم کرنے والوں کے تحفظ کے حوالے سے عوامی عرضداشت کے علاوہ مالی سال 2020-21ء کیلئے وزارت سمندری امور کی طرف سے پی ایس ڈی پی کیلئے تجاویز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے گوادر پورٹ پر مقامی سروسز فراہم کرنے والوں کے تحفظ کے حوالے سے عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جب گوادر پورٹ کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو کہا گیا تھا کہ مقامی آبادی کیلئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے، مستقبل میں یہ مسائل مزید بڑھیں گے، حکومت ایک پالیسی وضع کرے جس میں مقامی لوگوں کو روزگار کے حوالے سے ترجیح دی جائے۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ زیادہ سے زیادہ مقامی لوگوں کو روزگار ملنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ابھی کاروبار کم ہے مستقبل میں کاروبار بڑھے گا، اس حوالے سے تجویز ہے کہ گوادر کو مکمل آپریشنل بنایا جائے اور کاروباری محرکات میں اضافہ ہو سکے، ابھی وہاں مقامی لوگوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ نومبر میں ٹرانسشپمنٹ کے رولز بن جائیں گے مگر ابھی تک نہیں بنے۔ قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر کو اس حوالے سے خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ نے قائمہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔ وفاقی وزیر سمندری امور علی حیدر زیدی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ گوادر پورٹ کو زیادہ سے زیادہ ملکی اور عوامی مفاد میں بنانے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان کی زمین کسی کو مفت میں نہیں دی جائے گی، بے شمار اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور مقامی افراد کو روز گار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کیلئے لوگوں کی تربیت کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے، پاکستان میرین اکیڈمی (پی ایم اے) کو یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے گا، ڈپلومہ کی جگہ چار سالہ ڈگری کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلیو اکانومی ملکی معیشت کیلئے انتہائی اہم ہے اور ملک کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، اس سے مستفید ہونے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 33 وظائف 5.25 لاکھ فی بچہ کےلئے ہیں ان میں سے 50 فیصد صوبہ بلوچستان کیلئے ہیں جس میں بچوں کو کراچی میں تربیت دی جائے گی۔ سینیٹر کہدہ بابر نے انکشاف کیا کہ چار ہزار سولر سسٹم گوادر پورٹ اتھارٹی کے پاس پڑے ہیں مگر ا±ن کو استعمال نہیں کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم کلیرنس میں تاخیر کی وجہ سے تقسیم نہیں ہو سکی ایسٹ بے کے ماہی گیروں کا سروے کروا لیا ہے غر یب سے غریب لوگوں کو سولر سسٹم دیئے جائے گے۔ وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے تجویز دی کہ احساس پروگرام سے ڈیٹا حاصل کر کے جلد سے جلد تقسیم کئے جائیں۔قائمہ کمیٹی کو وزارت سمندری امور کی طرف سے مالی سال2020-21ءکیلئے تجویز کردہ پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 6 جاری اور 9 نئے منصوبے ہیں،جاری منصوبوں میں سے ایسٹ بے پر کام 56 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ گوادر پورٹ پر سپورٹ یونٹ کا منصوبہ جون 2021ءمیں مکمل ہو گا، پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ جو2 ارب کی گرانٹ کا منصوبہ ہے دسمبر 2021ءمیں مکمل ہو گا جو مقامی ورک فورس بنانے میں اہم ثابت ہو گا۔ کمیٹی کو 9 نئے منصوبوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ پاکستان میرین اکیڈمی کے حوالے سے بتایا گیا کہ 1978ءمیں قائم ہو ئی تھی اور اس کی مینٹی نینس کا کوئی کام آج تک نہیں ہوا 60 ملین کا منصوبہ سی ڈی ڈبلیو پی نے منظور کر رکھا ہے۔کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کے 6 منصوبے ہیں جس میں پانچ کلومیٹر کی باﺅنڈری وال، سمندری گہرائی اور جیٹیز کی بحالی کے بھی منصوبے ہیں۔ تین منصوبوں پر جائیکا کام کرے گا جن میں سے بزنس پارک کا قیام، کولڈ سٹورج ٹنل اور آکشن ہال کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ چیئر پرسن سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ گوادر پورٹ پر کام کو جلد سے جلد مکمل کرنے سے ملک اور عوام کو فائدہ ہو گا ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس کی بدولت مقامی آبادی زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے اور مقامی لوگوں کو درپیش مسائل حل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تربیت کے مواقع فراہم کر کے ا±ن کی استعداد کار کو بہتر کیا جائے تاکہ اس عظیم منصوبے سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز کہدہ بابر اور ستارہ ایاز کے علاوہ وفاقی وزیر وزارت سمندری امور علی حیدر زیدی، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر خان کاشانی اور وزارت سمندری امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








