اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت برآمدات پر مبنی اقتصادی بڑھوتری کے لئے کوششیں کر رہی ہے‘ سرمایہ کاری نہ ہونے اور صرف کھپت کی بنیاد پر ہونے والی بڑھوتری پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسٹین ٹرنر سے ملاقات …
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسٹین ٹرنر سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت برآمدات پر مبنی اقتصادی بڑھوتری کے لئے کوششیں کر رہی ہے‘ سرمایہ کاری نہ ہونے اور صرف کھپت کی بنیاد پر ہونے والی بڑھوتری پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسٹین ٹرنر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے اور معیاری اقتصادی بڑھوتری کے لئے کام کر رہی ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے صرف کھپت کی بنیاد پر بڑھوتری پر توجہ دی جس سے حقیقی اور پائیدار اقتصادی بڑھوتری حاصل نہ ہوسکی۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان میں اقتصادی اصلاحات کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔ معیشت دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تعاون کا اہم شعبہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے لئے وہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں۔ برٹش ایئرویز نے پاکستان کے لئے پروازیں بحال کر دی ہیں۔ برطانیہ کے تاجروں و سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو پاکستان جانے کے لئے راغب کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے لئے سفری ہدایات میں تبدیلی کردی گئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان کے لئے ٹریول ایڈوائزری میں تبدیلی میں تبدیلی اور پاکستان کے ساتھ تجارت‘ معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ میں دلچسپی لینے پر برطانوی ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت وسیع البنیاد اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ حکومت مارکیٹ میں مداخلت کو کم کرنے اور نجکاری کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ شعبہ جات گزشتہ چودہ برسوں میں نظرانداز کئے گئے تھے۔ حکومت نے سول بجٹ میں چالیس ارب روپے کی کمی کی ہے جبکہ دفاعی بجٹ میں بھی کمی کی گئی۔ گزشتہ چھ ماہ میں حکومت نے سٹیٹ بنک سے ایک روپیہ قرضہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لئے حکومت نے سماجی تحفظ کے دائرہ کار میں توسیع کردی ہے۔ گیس اور بجلی پر ان طبقات کو زرتلافی دیا جارہا ہے۔ کیش ٹرانسفر پروگرام کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے برطانوی ہائی کمشنر کو میکرو اکنامک استحکام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں حسابات جاریہ کا خسارہ کم ہوا۔ برآمدات میں اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں کمی آئی۔ ان اقدامات سے پرائمری بیلنس گزشتہ کئی سالوں میں پہلی بار سرپلس میں چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پہلی بار پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ محصولات کی وصولی میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح براہ راست بیرونی اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں گردشی قرضہ تیس ارب ماہانہ سے کم کرکے دس سے بارہ ارب روپے ماہانہ کی سطح پر لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے آخری 16 ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جس کی وجہ سے گردشی قرضہ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود 72 فیصد صارفین کو زرتلافی کی شکل میں قیمتوں میں اضافہ کے اثرات سے بچایا گیا ہے۔ اسی طرح 92 فیصد زرعی ٹیوب ویلوں کو بھی کم قیمت پر بجلی فراہم کی جارہی ہے۔








