اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی)وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ علاقے ووہان میں مقیم لوگوں کو عالمی ادارہ صحت کی ایڈوائزری کے مطابق نکالا نہیں جاسکتا‘ وہاں پر موجود پاکستانی طالب علم مکمل رابطے میں ہیں اور انہیں خوراک بھی مل رہی ہے‘ عالمی ادارہ صحت نے اس علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے‘ وہاں سے نجی ٹرانسپورٹ کو بھی نکلنے کی …
پارلیمانی سیکرٹری برائے خارجہ امور عندلیب عباس کا قومی اسمبلی میں جواب
اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی)وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ علاقے ووہان میں مقیم لوگوں کو عالمی ادارہ صحت کی ایڈوائزری کے مطابق نکالا نہیں جاسکتا‘ وہاں پر موجود پاکستانی طالب علم مکمل رابطے میں ہیں اور انہیں خوراک بھی مل رہی ہے‘ عالمی ادارہ صحت نے اس علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے‘ وہاں سے نجی ٹرانسپورٹ کو بھی نکلنے کی اجازت نہیں ہے‘ پروازیں بند ہیں‘ ان طالب علموں کا وہاں رہنا ان کے خاندان کے بھی مفاد میں ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں فضل محمد خان اور دیگر کی جانب سے کرونا وائرس کی وجہ سے چین میں پاکستانی طلباءکو درپیش مشکلات سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خارجہ امور عندلیب عباس نے بتایا کہ ووہان میں پانچ سے آٹھ سو تک طالب علم ہیں۔ یہ وائرس پہلے اینمل ٹو ہیومن پھر ہیومن ٹو ہیومن پھیلتا ہے۔ اس پر چین میں کام ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت بھی کام کر رہا ہے۔ اس کو پھیلنے سے روکنا اہم بات ہے اور ہماری حکومت تین مراحل میں اس پر کام کر رہی ہے۔ فضل محمد کے سوال کے جواب میں عندلیب عباس نے بتایا کہ یہ توجہ طلب مسئلہ ہے۔ یہ ایک نیا مسئلہ ہے۔ ووہان کو الگ تھلگ کیا گیا ہے۔ ہمارے وہاں رہنے والے طالب علموں میں سے ایک کو یہ وائرس کنفرم ہوا ہے باقی مشتبہ ہے۔ ان کو وہاں سے نکال نہیں سکتے۔ 14 دن تک انہیں رکنا پڑتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے وہاں ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے۔ طالب علموں کے لئے یونیورسٹی کینٹین دو گھنٹے کھلتی ہے۔ ان کو خوراک مل رہی ہے۔ ان کا طبی معائنہ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے خوف کا عنصر ہے جس سے یہ مختلف ممالک میں گیا ہے۔ طالب علموں سے سفارتخانے کا مکمل رابطہ ہے۔ انہیں خوراک مل رہی ہے۔ قومی ادارہ صحت اس پر ایک پورا پروگرام تیار کر رہا ہے۔ شیر اکبر کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طالب علموں کے لئے بہتر ہے کہ وہ وہاں علاج کے لئے رکیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ایڈوائزری پر عمل ضروری ہے۔ ایئرپورٹ پر بھی ان کا چیک اپ ہو رہا ہے۔ ہر ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ بنائی گئی ہیں۔ وہاں پروازیں بند ہیں۔ اگر وہ وہاں سے نکلے تو یہ ان کے اور ان کے خاندانوں کے لئے مسئلہ ہے۔









