تھرکے کوئلے پر مبنی 330 میگاواٹ بجلی پید اکرنے والے منصوبے کے مالیاتی امور کی تکمیل کی دستاویزات پر دستخط کی تقریب

اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی)تھرکے کوئلے پر مبنی 330 میگاواٹ بجلی پید اکرنے والے منصوبے کے مالیاتی امور کی تکمیل کی دستاویزات پر دستخط کی تاریخی تقریب جمعرات کو منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر برائے بجلی عمر ایوب خان ، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) اور پراجیکٹ کمپنی کے افسران نے شرکت کی۔ تھرکول بلاک 2 کے 330 میگاواٹ تھرکے کوئلے پر …

اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی)تھرکے کوئلے پر مبنی 330 میگاواٹ بجلی پید اکرنے والے منصوبے کے مالیاتی امور کی تکمیل کی دستاویزات پر دستخط کی تاریخی تقریب جمعرات کو منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر برائے بجلی عمر ایوب خان ، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) اور پراجیکٹ کمپنی کے افسران نے شرکت کی۔ تھرکول بلاک 2 کے 330 میگاواٹ تھرکے کوئلے پر مبنی بجلی پیدا کرنے والے منصوبے کے مالیاتی امور کی تکمیل کی دستاویزات پر پی پی آئی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہان مرزا اور تھر انرجی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلیم اللہ میمن نے دستاویزات پر دستخط کئے۔ اس سے قبل، عمل درآمد کے منصوبے پر 10 نومبر 2017ءکو دستخط ہوئے تھے۔ اس منصوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت میسرزحب پاور کمپنی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ، چائنہ مشینری اور انجینئرنگ کارپوریشن مشترکہ طور پر سپانسر کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کی کل لاگت 497 ملین امریکی ڈالر ہے جبکہ چائنہ ڈویلپمنٹ بینک اور حبیب بینک لمیٹڈ قرضہ فراہم کریں گے۔دوسرے مرحلے میں یہ منصوبہ سندھ اینگرو کول مائننگ کے ذریعہ فراہم کردہ تھرکوئلے کو استعمال کرے گا جس کے کوئلے کی مجموعی قیمت 64 ڈالر ٹن سے گھٹ کر 44 ڈالر ٹن ہو جائے گی جس سے بجلی کے نرخ میں نمایاں طور پر 1.6/KWh cent (یعنی تقریباً KWh/22 ) کی کمی واقع ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت بجلی کی پیداوار کے بعد تقریباً ہر سال 18 ارب روپے بطور زرمبادلہ بچت ہوگی جبکہ سال 2022ءتک ہر سال 260 بلین کی بچت ہوگی جب 5 ہزار میگاواٹ کے تھرکوئلے پر مبنی تمام منصوبے چل جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے نرخ گھٹا کر 5 cent/KWhr تک کر دیئے جایئں گے۔ سرمایہ کار مارچ 2021ءتک اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے خواہاں ہیں اور اس ہدف کے حاصل کرنے کیلئے انہوں نے مالیاتی امور کے انتظامات کی تکمیل سے قبل تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اب تک 40 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کو مٹیاری لاہور ٹرانسٹمیشن لائن سے بجلی کی ترسیل کیلئے منسلک کیا جائے گا۔ اسٹیٹ آف دی آرٹ کوئلہ نکنالوجی پر تیار ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ تمام بین الاقوامی اور وفاقی اور صوبای معیار کے مطابق ہے۔ اس منصوبے کی ترقی سے تھرپارکرکے علاقے کو معاشرتی و اقتصادی ترقی میں بھی مدد ملے گی پاکستان کیلئے توانائی کا مرکز و محور بننے والا ہے۔ 5 ہزار میگاواٹ کے تھر کوئلے پر مبنی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے علاوہ پی پی آئی بی نجی شعبے میں 6550 میگاواٹ کے 17 پن بجلی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے جو تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ 2022ءتک پی پی آئی بی کا 11 منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے 6500 میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کا ہدف ہے۔ اکثر منصوبے تھرکوئلے اور پن بجلی پر منحصر ہے۔ پی پی آئی بی پاکستان کے پہلے نجی شعبہ کے تحت 660 کلوواٹ مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے جو جنوبی زون میں کوئلے کے منصوبوں سے قومی گرد تک بجلی منتقل کرنے والا پہلا ایچ وی ڈی سی منصوبہ بھی ہے۔ یہ منصوبہ ابھی زیر تعمیر ہے جس کا مارچ 2021ءتک مکمل ہونے کا ہدف ہے۔ وفاقی وزیر نے اس ترقی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ 330 میگاواٹ کا یہ اضافہ قومی گرڈ کو مزید تقویب بخشے گا اور بجلی کے شعبے میں استحکام اور اعتماد حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی اور قدرتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی جستجو میں ہر ایک میگاواٹ پاکستان کے توانائی کی تزئین کی تزئین و آرائش اور اپنے مقامی بنیادوں پر اپنے توانائی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے بہت ضروری ہے جو بالآخر درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار ترک کر دے گا۔ وزیر نے اپنے اختتامی الفاظ میں اس سنگ میل کو حاصل کرنے کیلئے پاور ڈویژن، پی پی آئی بی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی انتھک کوششوں کو سراہا۔