ایف بی آر نے جنوری حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن کی تفصیلات جاری کر دی

اسلام آباد ۔ یکم فروری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریوینو نے ماہ جنوری 2020میں حاصل ہونے والی ٹیکس آمدنی کی تفصیلات اور ٹیکس سال 2019میں اب تک جمع ہونے والے ٹیکس گوشواروں کی تعداد جاری کی ہے۔ ہفتہ کو ایف بی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جنوری 2020میں حاصل کردہ ریوینو 320ارب روپے ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 17فیصد زائد ہے۔ جنوری …

اسلام آباد ۔ یکم فروری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریوینو نے ماہ جنوری 2020میں حاصل ہونے والی ٹیکس آمدنی کی تفصیلات اور ٹیکس سال 2019میں اب تک جمع ہونے والے ٹیکس گوشواروں کی تعداد جاری کی ہے۔ ہفتہ کو ایف بی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جنوری 2020میں حاصل کردہ ریوینو 320ارب روپے ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 17فیصد زائد ہے۔ جنوری میں حاصل ہونے والے ریوینو میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ نیشنل بینک کی آف لائن برانچز سے تاخیر سے معلومات حاصل ہوئی ہیں۔مجموعی تعداد میں بھی 17فیصدمثبت اضافہ حاصل ہوا ہے۔ موجودہ ٹیکس ریوینو کا انحصار بڑے پیمانے پر ہونے والی پیداوار، درآمدات، خوراک اور ادویات کے علاوہ ہونے والا خرچہ اور اجرت میں اضافہ ہے۔ یہ تمام اعشاریے مائیکرواکنامکس میں ہونے والی تبدیلی کا نتیجہ ہیں اس لئے موجودہ مالی سال میں 17فیصد ریوینو اضافہ ایف بی آر کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ پچھلے پانچ سال کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ ایف بی آر 50سے55فیصد ریوینو درآمدی ٹیکسز سے حاصل کرتا ہے۔ درآمدات میں دباؤ کی وجہ سے یہ آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹیکسز میں ہونے والی بڑھوتری اندرونی ٹیکسز سے ہونے والی آمدنی میں 30فیصد اضافہ ہے جو کہ ایف بی آر میں اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ایف بی آر کے افسران اور افرادی قوت محدود وسائل کے باوجود انتھک محنت کی بدولت ریوینو میں صحت مند اضافہ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔پچھلے سال کے مقابلہ میں اس سال گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں 40فیصد اضافہ ہوا جو کہ پاکستانی عوام کے ادارے پر اعتماد کا مظہر ہے۔ ٹیکس سال 2018کے لئے اکتیس جنوری 2019تک گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد سولہ لاکھ پینتالیس ہزار آٹھ سو اٹھائیس تھی جو کہ ٹیکس سال 2019کے لئے اکتیس جنوری 2020کو بڑھ کر تئیس لاکھ بیالیس ہزار چھ سو بیالیس ہو گئی ہے۔ایف بی آر کو اس بات کا ادراک ہے کہ ٹیکسز کا حصول معاشی سرگرمیوں سے وابستہ ہے اسی وجہ سے ایف بی آر نے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کئے بغیر ٹیکسز کے اہداف کا تعین کیا ہے۔ اس سال ایف بی آر کو حاصل ہونے والی کامیابی تاجر تنظیموں اور کاروباری افراد کے تعاون سے ممکن ہوئی ہے اور توقع ہے کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔ ایف بی آر حتی الامکان کوشش کر رہا ہے کہ برآمد کنندگان کے ریفنڈز میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اسی لئے اس سال جاری ہونے والے ریفنڈز اس سے پہلے کبھی بھی جاری نہیں ہو سکے۔ اس سال 120ارب کے ریفنڈز جاری ہوئے جبکہ پچھلے سال 65ارب جاری کئے گئے۔ ایف بی آر اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ ریوینو میں اضافہ لایا جائے جس سے پاکستانی شہریوں کی خوشحالی وابستہ ہے۔

مزید خبریں