لندن ۔ 5 فروری (اے پی پی) صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ پاکستان صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، پاکستان اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کا پرامن اور دیرپا حل چاہتے ہیں، بھارت کا طرز عمل خطے کے امن کیلئے شدید خطرہ ہے، عالمی برادری اجتماحی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے …
پاکستان اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کا پرامن اور دیرپا حل چاہتے ہیں، بھارت کا طرز عمل خطے کے امن کیلئے شدید خطرہ ہے، صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان کا برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
لندن ۔ 5 فروری (اے پی پی) صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ پاکستان صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، پاکستان اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کا پرامن اور دیرپا حل چاہتے ہیں، بھارت کا طرز عمل خطے کے امن کیلئے شدید خطرہ ہے، عالمی برادری اجتماحی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا موثر کردار ادا کرے تو مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بدھ کو تحریک کشمیر برطانیہ کے زیراہتمام برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ کشمیر کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود نے کہا کہ گذشتہ چھ ماہ میں بھارت نے جو حالات پیدا کر رکھے ہیں، اس پر کسی بھی ملک کا ردعمل سامنے نہیں آیا البتہ مختلف ممالک کے ممبران پارلیمنٹ نے عوامی سطح پر ان کشیدہ اور سنگین حالات پر آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے جتنی کانفرنسوں میں شرکت کی اور پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں ممبران پارلیمنٹ کی شرکت سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو تقویت ملی۔ اس سے بھارت کے خلاف برسرپیکار کشمیریوں اور سفارتی محاذ پر کوشاں کشمیری اور پاکستانی تنظیموں اور کمیونٹی کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ حریت کانفرنس کے رہنما الطاب احمد بٹ، آل پارٹیز کشمیر گروپ کی چیئر پرسن ممبر آف پارلیمنٹ ڈیبی ابرایم، دیگر ممبران پارلیمنٹ سٹیو بیکر، مارکو لونگی، افضل خان، یاسمین قریشی ،لارڈ قربان، تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ، برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی ، ڈاٹر آف کشمیر کی چیئر پرسن زبیدہ خان اور بڑی تعداد میں ممبران پارلیمنٹ کونسلرز اور کمیونٹی رہنماﺅں نے خطاب کیا۔ برطانیہ میں انتخابات کے بعد یہ پہلی کانفرنس تھی جس میں پچاس کے قریب ممبران پارلیمنٹ نے شرکت کی ۔الطاف بٹ نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ چھ ماہ کشمیر کو لاک ڈاون کر کے کشمیر معشیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ سکولز، کالجز، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کو بند کر کے بھارتی فوج نے پورے وادی کو بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ پچانوے سال کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کو گذشتہ دس سال سے گھر میں بند کر رکھا ہے ،شبیر شاہ، یاسین ملک آسیہ اندرابی، ڈاکٹر فیاض، اورمحمد اکبر احمد بٹ کو بھی جیلوں میں بند کر رکھا ہے اور ان کی صحت انتہائی خراب ہے۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ممبران پالیمنٹ کا کانفرس میں شرکت کرنا نریندر مودی کے لیے واضح پیغام ہے کہ کشمیر ی عوام آزدی کی جد و جہد میں تنہا نہیں۔








