اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی)چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کا بھائی چارہ اقتصادی تعاون اور شراکت داری میں بدل رہا ہے، سی پیک کے مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، دوسرے مرحلے میں بڑے منصوبے آئیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں نیپرا کے زیر اہتمام ہفتہ توانائی کی …
چین اور پاکستان کا بھائی چارہ اقتصادی تعاون اور شراکت داری میں بدل رہا ہے، سی پیک کے مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی)چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کا بھائی چارہ اقتصادی تعاون اور شراکت داری میں بدل رہا ہے، سی پیک کے مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، دوسرے مرحلے میں بڑے منصوبے آئیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں نیپرا کے زیر اہتمام ہفتہ توانائی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک حقیقت ہے اور پہلے مرحلے کے ثمرات بنیادی ڈھانچے اور مواصلات کے شعبے کی ترقی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ سکھر حیدر آباد موٹر وے اور بڑے شاہراہوں کے دیگر منصوبے اس کی مثال ہیں۔ ہکلہ ڈیرہ روڈ کے بعد ژوب کوئٹہ، خضداراور ہوشاب روڈ پر کام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پہلے مرحلے میں توانائی کے زیادہ تر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور یہ سستی توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔ کرونا وائرس سے سی پیک پر ہونے والی پیشرفت متاثر نہیں ہوگی۔ سی پیک کے دو ہائیڈل منصوبے سے مسائل حل ہو چکے ہیں۔ تھر سے بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں بڑے منصوبے آ رہے ہیں جن پر کام تیزی سے کرنا ہو گا تاکہ انہیں بروقت مکمل کیا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں زراعت، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، تیل و گیس اور بحری امور کے منصوبے کے ذریعے سی پیک کا دائرہ وسیع کیا جائےگا جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور برآمدات میں اضافہ ہو گا ۔اس سال کے وسط تک سی پیک کے حقیقی ثمرات سامنے آئیں گے۔








