سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا بین الاقوامی کانفرنس برائے بین المذاہب مکالمہ و قومی ہم آہنگی میں سائبان پاکستان بیانیہ کی تقریب رونمائی سے خطاب

اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت امن و امان کی ترویج اور مذہبی عقائد کے تحفظ کےلئے کوشاں ہے، موجود حکومت ریاست مدینہ کے ماڈل کی پیروی کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس برائے بین المذاہب مکالمہ و قومی ہم آہنگی …

اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت امن و امان کی ترویج اور مذہبی عقائد کے تحفظ کےلئے کوشاں ہے، موجود حکومت ریاست مدینہ کے ماڈل کی پیروی کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس برائے بین المذاہب مکالمہ و قومی ہم آہنگی میں سائبان پاکستان بیانیہ کی تقریب رونمائی سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیہ کی دنیا بھر میں تعریف ہوئی اور یہ ملک کی نیک نامی کا باعث بنا۔ اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کے حقوق کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے جبکہ سائبان پاکستان بیانیہ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں مزید کہا کہ اقلیتوں کے حقوق اور اس کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں قومی اسمبلی میں بحث کی جائے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایوانوں اور جامعات میں ایسے مکالمے دور رس نتائج لا سکتے ہیں، جامعات تحقیق پر توجہ دیں، شعبہ تدریس ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور سب کو مل کر اس ملک کو بھنور سے نکالنا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس برائے بین العقائد مکالمہ قومی ہم آہنگی میں سائبان پاکستان بیانیہ کی رونمائی کر دی گئی جس میں شرکاءنے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا داعی ہے، معاشرے کو ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بیانیہ میں اقلیتوں کا کردار قابل تعریف ہے، باہمی برداشت و مکالمہ کی ترویج اور پیغام پاکستان بیانیہ کی ترویج کےلئے سوشل میڈیا سمیت جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جائے۔ تقریب کا انعقاد قزاخستان کے نذر بائیوف مرکز برائے بین العقائد ہم آہنگی و مکالمہ بورڈ کے اشتراک سے کیا گیا تھا جس کے چیئرمین آلتے ابیبوالیوف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مکالمہ ہی عالمی مسائل کا حل ہے اور حالیہ عالمی منظر نامہ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انہوں کہا کہ مکالمہ کو عام کرنے کےلئے دوطرفہ کاوشیں کامیاب ہوں گی اور اس ضمن میں سب سے اہم قوت طلباء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہی پاک۔قزاخستان 28 سالہ تعلقات کا یوم تاسیس ہے اور اس موقع پر دونوں ممالک کی جانب سے امن کےلئے یہ کاوش و تقریب اور بھی اہم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی اور مذہبی اعتبار سے مضبوط دوستی کے متحمل ممالک ہیں۔ آلتے ابیبوالیوف نے کہا کہ بین المذہب ہم آہنگی موجودہ قازق حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیہ کی خوبصورتی بین المذاہب و عقائد ہم آہنگی اور امن کی ترویج ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی کا پاکستانی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نوجوان قلم اور کتاب کے ساتھ رشتہ قائم رکھیں، پیغام پاکستان کی اشاعت و ترویج کےلئے نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال کریں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے پیغام پاکستان بیانیہ اور اس کے مختلف منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہون نے کہا کہ اسلام صبر، حلم اور سلامتی کا دین ہے، اسی دین نے بتایا کہ انسانوں کے حقوق پامال نہ کئے جائیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ ڈاکٹر معصوم نے وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا سے مکالمہ کرتے ہوئے یہی ہمارا منشور ہونا چاہئے اور ایسے ہی اپنا کیس لڑنا چاہئے جیسا وزیراعظم نے لڑا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے کہا کہ اسلامی تعلیمات یہی ہیں کہ انسانیت کی عزت کی جائے، امتوں کے درمیان اختلاف کا مطلب جنگ و جدل نہیں بلکہ باہمی برداشت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی حرمت کے تقدس کو پامال نہیں کیا جانا چاہئے۔ صدر جامعہ کا کہنا تھا کہ اسلام محبت، رحمدلی کا دین ہے، ہم تشدد کی حوصلہ شکنی اور ترویج امن کی حوصلہ افزائی کرنے والے لوگ ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر عطاءاللہ شاہ وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی، سربراہ کرسچین سٹڈی سنٹر، جینیفر جگ جیون پیٹر جیکب، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پاکستان انسٹیٹیوٹ براے پارلیمانی امور ظفر اللہ خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں سربراہ ادارہ تحقیقات اسلامی ڈاکٹر محمد ضیاءالحق نے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیہ کو امام کعبہ سمیت 600 سے زائد علماءکی تائید حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیغام پاکستان کے مختلف منصوبے نوجوانان پاکستان، پاکستان ، دختران پاکستان کے نام سے بیانیہ کی روشنیی میں کام کر رہے ہیں۔

مزید خبریں