لاہور ۔ 24 فروری (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر احمد آباد میں غریبوں کو چھپانے کیلئے 12 ملین لاگت سے دیوار کھینچی گئی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے مظالم کو بھی چھپا کر امریکہ کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ، پاکستان اور اہل جموں و کشمیر سفارتی محاذ …
صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا لاہور پریس کلب کے پروگرام ”میٹ دی پریس“ میں اظہار خیال

مزید خبریں
لاہور ۔ 24 فروری (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر احمد آباد میں غریبوں کو چھپانے کیلئے 12 ملین لاگت سے دیوار کھینچی گئی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے مظالم کو بھی چھپا کر امریکہ کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ، پاکستان اور اہل جموں و کشمیر سفارتی محاذ پر درست سمت آگے بڑھ رہے ہیں ،اس وقت نہ پاکستان تنہا ہے نہ کشمیر ، بین الاقوامی سول سوسائٹی اٹھ کھڑی ہوئی ہے ، یقیناً فتح کشمیریوں کا مقدر بنے گی ، وہ پیر کے روز لاہور پریس کلب کے پروگرام ”میٹ دی پریس“ میں اظہار خیال کر رہے تھے ، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری و دیگر عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے ، سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر میں 204 روز سے ظلم و ستم جاری ہے تاکہ کشمیریوں کے ذہن بدلے جائیں لیکن کشمیریوں نے بھی اس بات کی قسم کھائی ہے کہ وہ آزادی اور حق خود ارادیت لیکر رہیں گے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ رشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے ، اس وقت عالمی میڈیا بھی کشمیر کے مسئلہ پر ساتھ دے رہا ہے، ملائیشیاءمیں پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر کا گروپ بن رہا ہے ، اسی طرح برسلز،یورپی پارلیمنٹ ، واشنگٹن اور نیو یارک میں بھی حمایت جاری ہے ، صدر آزاد کشمیر نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ڈاکومنٹریز میں کشمیر کو خصوصی طور پر شامل کرے جبکہ اخبارات کے صفحہ اول پر کشمیر کو اہمیت دی جائے ، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ثالثی کی پیشکش کی لیکن بعد میں ان کا لہجہ ٹھنڈا پڑ گیا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان ثالثی کی پیشکش پر ہمہ وقت تیار ہے لیکن بھارت کبھی بھی کسی کی ثالثی ماننے کو تیار نہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر امریکی صدر ہندوستان سے کوئی تجویز لاتے ہیں تو پاکستان کو بھی جموں و کشمیر کے لوگوں سے رجوع کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سخت بیانات کے بعد ہمیں چوکنا رہنا چاہئے اور سیاسی ،سفارتی و قانونی ذرائع کے استعمال کے ساتھ ساتھ کشمیر کی آزادی کیلئے ذرائع ابلاغ کو بھی استعمال کرنا چاہئے ، صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پہلی مرتبہ بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کشمیر کے ساتھ ہے، بعض ممالک اپنے مفادات کی وجہ سے مصلحت کا بھی شکار ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ کشمیری تنہا نہیں ، انہوں نے کہا کہ بھارت نے عوامی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے پاکستان کے ساتھ نفرت کی بنیاد پر انتخابات جیتے لیکن بھارتی سرکار نے بوکھلاہٹ میں ایسے اقدامات کئے کہ بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو ، سکھ ، عیسائی سراپا احتجاج ہیں ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان دفاع کے ساتھ ساتھ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ، امید ہے کہ آئندہ سالوں میں پاکستان کی معیشت کا شمار دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں ہو گا ، ایک سوال پر سردار مسعود خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی سے خطاب کو ہر سطح پر پذیرائی ملی ، مسئلہ کشمیر کو مزید مرکزی حیثیت دینے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پر بھارت کا موقف منفی ہے لیکن پاکستان کا دوٹوک موقف ہے کہ پہلے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے اس کے بعد پاکستان کے ساتھ کوئی رشتہ جوڑا جا سکتا ہے لہٰذا ہندوستان اور پاکستان کے موقف کو یکساں نہیں دیکھنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ آزادی کشمیر کیلئے پاکستان کی معیشت اور اس کی سلامتی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔








