کابل۔ 29 فروری (اے پی پی) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ آج افغانستان کیلئے تاریخی دن ہے، معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے پر امریکی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دیگر ممالک کے تعاون کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، افغانستان کا ہر شہری امن عمل کا حصہ ہے ، موجودہ نسل نے قربانیاں دیکر آنے …
افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
کابل۔ 29 فروری (اے پی پی) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ آج افغانستان کیلئے تاریخی دن ہے، معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے پر امریکی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دیگر ممالک کے تعاون کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، افغانستان کا ہر شہری امن عمل کا حصہ ہے ، موجودہ نسل نے قربانیاں دیکر آنے والی نسل کیلئے امن قائم کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، افغانستان کے علماء نے بھی ملک میں امن کیلئے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے دہشتگردی سے نبرد آزما ہیں، معاہدے سے افغانستان میں 19 سالہ جنگ کا اختتام ہونے جا رہا ہے۔ ہفتہ کو کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغانستان کے صدر شرف غنی نے کہا کہ امید ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان یہ معاہدہ طویل جنگ کے خاتمے کیلئے کارگر ثابت ہو گا، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور دیگر مہمانوں کو تقریب میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن کیلئے کوششیں کرنے پر تمام دوست ممالک کے مشکور ہیں، پاکستان اور دیگر برادر ملکوں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، امید ہے کہ امن معاہدے سے افغانستان میں امن و استحکام آئے گا اور تمام فریقین امن معاہدے کی پاسداری کریں گے، افغانستان میں دائمی امن کیلئے امریکہ کے ساتھ مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ سے نبردآزما ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں، افغانستان کی موجودہ نسل نے امن قائم کر کے آنے والی نسل کیلئے قربانیاں دیں۔ افغانی صدر نے کہا کہ دو داہیوں سے افغانستان کے ایک کروڑ افراد کو نقل مکانی کی تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں، امید ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ملک میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان فوج کی ملک اور ملک میں امن کیلئے قربانیاں قابل قدر ہیں، امریکہ اور نیٹو فورسز کی افغان فوج کی مدد کی کوششیں بھی قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے 2018ء سیز فائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیز فائر کے اندر دونوں فریقین کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا، افغان حکومت ملک کے تمام صوبوں کے اندر حکومت کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے۔
waa/ads/rhn 1928








