اسلام آباد ۔ 29 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس لا علاج نہیں قابل علاج ہے' کرونا وائرس سے صحت یابی کا ریکوری ریٹ98فیصد سے زائد ہے، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے آج امریکہ افغان امن معاہدے کامیاب ہوا،امن کے لئے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہے،کرونا وائرس کے حوالے سے …
پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے آج امریکہ افغان امن معاہدے کامیاب ہوا،امن کے لئے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہے،وزیر اعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس لا علاج نہیں قابل علاج ہے’ کرونا وائرس سے صحت یابی کا ریکوری ریٹ98فیصد سے زائد ہے، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے آج امریکہ افغان امن معاہدے کامیاب ہوا،امن کے لئے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہے،کرونا وائرس کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا،کرونا کے خلاف ہم نے قبل ازوقت اقدامات کئے ہیں، دنیا میں اس وباء کے پھیلنے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی تیاری ضروری تھی،نزلہ ، زکام ہونے کی صورت میں ہجوم میں جانے سے گریز کریں، پاکستان میں مزید دو افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جس میں ایک کاتعلق سندھ اور دوسرا اسلام آباد سے ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خظاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اغوان نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا جس میں اس حوالے سے صوبوں میں انتظامات، تیاریوں اور گرائونڈ صورتحال کے حوالے سے ویڈیو لینک کے ذریعے اپ ڈیٹ لی گئی۔ اجلاس میں وفاقی ڈیپارٹمنٹ سٹیک ہولڈر، جنرل سرجن ، ڈی جی ایم او اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں اس نتیجہ پرپہنچے کہ کرونا سے ڈرنا نہیں بلکہ لڑنا ہے یہ ناقابل علاج نہیں قابل علاج ہے، اس سلسلے میں ہر سیاسی، سماجی اور حکومتی سطح اور میڈیا کے پلیٹ فارم سے ہم ایک ٹیم بن کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو ساتھ لے کرچلنا ہے اور واقعات کے حوالے سے ترجیحات طے کرنی ہیں۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزارت صحت کرونا وائرس کے حوالے سے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے اجلاس پیر کو شروع ہوگا ، کرونا وائرس کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ صوبوں اور وفاق میں تمام سیاسی لوگ تحصیل اور یونین سطح پر کرونا وائرس کے حوالے سے کردار ادا کریں گے اور وہ کرونا وائرس کے حوالے سے علاج تمام مراحل میں ہراول دستے کے کردار کے حوالے سے ترجیحات طے کریں گی۔ منگل کو کابینہ اجلاس بھی ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے منگل کو کابینہ اجلاس میں ترجیحات طے کی ہیں ان کو کابینہ سے منظوری کیلئے رکھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایسے ایشوز پر سیاست کرنے سے گریز کرے یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ یونٹی کا ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،کرونا ایک وبائی مرض ہے اس میں صرف اختیاط کی ضرورت ہے، وائرس سے بچنے کیلئے میڈیا عوام میں احتیاطی تدابیر اجاگر کرے گا، میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کو امن کا ملک قرار دیا ہے اور پر امن ملک کی وجہ سے یہاں پر پی ایس ایل کی وجہ سے ہمارے میدان بھی آباد ہو گئے ہیں،میڈیا کا کردار اسوقت بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے مستحکم معیشت جو رواں دواں ہے کرونا جیسا نان ایشو اس راستے کو روک سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے جس کے ذریعے اس وائرس کو شکست دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرہیز اوراختیاط علاج سے بہتر ہیں،ہم نے اس وائرس سے لڑنا ہے۔ کرونا وائرس سے صحت یابی کا ریکوری ریٹ 98 فیصد سے بھی زائد ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ امن کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ جیت گیا،وزیر اعظم عمران خان کے بیانیے کو تقویت ملی ہے۔عمران خان واحد لیڈر ہے جو شروع سے افغانستان میں امن کیلئے مزاکرات کی بات کرتا رہا ہے،پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ آج امریکہ افغان امن معاہدے کامیاب ہوا،امن کے لئے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہے،پاکستان نے عالمی امن کے لئے مثبت کردار ادا کیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے ہفتہ کو یہاں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبوں کے علاوہ تمام سٹیک ہولڈر نے شرکت کی۔ اجلاس میں سٹیک ہولڈر کے مابین موثر روابط بارے بات چیت ہوئی ہے۔کرونا وائرس کے حوالے سے اہم ترین میٹینگ تھی جس میں تمام متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریوں نے شرکت کی ۔معاون خصوصی نے کہا کہ اجلاس تین گھنٹے تک جاری رہا جس میںکرونا کے حوالے سے اقدامات کیے گئے ہی ۔57 ملکوں میں کرونا پھیل چکا ہے’ پاکستان چالیسویں نمبر پر تھا اور ہمسایوں میں سب سے آخری ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن پلان کے ری ویو کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں پراگر مزیدعملے کی ضرورت ہے وہ بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلاف ہم نے قبل ازوقت اقدامات کئے ہیں، دنیا میں اس وباء کے پھیلنے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی تیاری ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دو مزید افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جس میں ایک کا تعلق سندھ اور دوسرے کا اسلام آباد سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے زائرین کی واپسی کے بارے میں اہم فیصلے کئے ہیں فی الوقت ایران کے ساتھ فضائی سروس معطل ہے۔ زائرین کی واپسی کا طریقہ کار طے پایا ہے۔ زائرین کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وباء پھیلنے کی صورت میں ہسپتالوں میں عملہ کی تعیناتیوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ، ضرورت پڑنے پر ہسپتالوں میں مزید بھرتیاں بھی کی جاسکتی ہیں، اس ضمن میں ہسپتالوں میں ہیومن ریسورسز کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ کچھ ہسپتالوں کو خصوصی طور پر کرونا کیلئے مختص کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسک ہر کسی کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں جس کو ضرورت ہے اس کو درست ماسک استعمال کرنا ہوگا۔ ہمیں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ کسی صورت پریشان نہیں ہونا، ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ کرونا وائرس بارے میں آگاہی کیلئے تین رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے کمیٹی میں وزارت صحت ، وزارت اطلاعات و آئی ایس پی آر کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پہلے رپورٹ ہونے والے دونوں مریض تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا ہے کہ کوئی بھی کیس رپورٹ کرنے کے لیے 1166پر مطلع کریں،نزلہ ، زکام ہونے کی صورت میں ہجوم میں جانے سے گریز کریں۔








