بیجنگ ۔ 2 مارچ (اے پی پی) چین کی ساو¿تھ ویسٹ یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لاءکے پروفیسر چینگ شی زونگ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک اہم ہمسایہ ملک کی حیثیت سے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مقامی اخبار چائنا اکنامک نیٹ میںمیں شائع ہونے والے اپنے کالم میں انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم …
پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں کلیدی کردار ادا کرے گا، چینی تجزیہ کار

مزید خبریں
بیجنگ ۔ 2 مارچ (اے پی پی) چین کی ساو¿تھ ویسٹ یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لاءکے پروفیسر چینگ شی زونگ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک اہم ہمسایہ ملک کی حیثیت سے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مقامی اخبار چائنا اکنامک نیٹ میںمیں شائع ہونے والے اپنے کالم میں انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم ، متحد ، جمہوری اور خوشحال افغانستان کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا ۔ دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین امن معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ افغانستان کی جنگ کو 18 سال ہو گئے لیکن امریکہ طالبان کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ اس پس منظر میں امریکیوں نے انہی افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کئے جن کی حکومت کا تختہ اس نے 2001ءمیں الٹ دیا تھا۔ یہ معاہدہ ستمبر 2019 ءمیں طے پا جاتا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل میں اپنے فوجی کی ہلاکت کے باعث امن مذاکرات ختم کر دیئے جو تین ماہ معطل رہے۔ 28 نومبر 2019 ءکو صدر ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر افغانستان کا دورہ کر کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور طالبان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ دیا۔ فروری 2020ءمیں مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی اور فریقین نے سات روز کی عارضی جنگ بندی کے بعد 29 فوروی کو تاریخی امن معاہدے پر دستخط کردیئے ۔ 18 سال سے جاری افغان جنگ میں 2300 سے زائد امریکی فوجیوں سمیت نیٹو اتحادکے 3500 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ42 ہزار طالبان فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری جانب اس جنگ نے جنوبی ایشیاءخصوصاً پاکستان میں امن ، استحکام اورمعاشی و اقتصادی ترقی کو بے حد نقصان پہنچایا۔ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات کے آغاز کے لئے عالمی برادری بالخصوص پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا کیونکہ امریکہ بھی چاہتا تھا کہ پاکستان اس معاملے دونوں فریقوں کے مابین ثالثی کرائے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ افغانستان میں امن عمل کی مزید پیشرفت کی امریکہ کی سنجیدگی سے مشروط ہے اور افغانستان سے مکمل فوجی انخلاءہی سے اس میں نمایاں پیشرفت ہوگی ۔ چینی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے افغانستان پر اپنا فوجی اثر و رسوخ اور سیاسی کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کی تو اس سے افغانستان کا امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونا بہت مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور مفاہمت کے عمل کی صحیح سمت یہی ہے کہ یہ عمل افغانوں کی اپنی مرضی سے ہو اور اس کی قیادت بھی افغان خود کریں ۔ بیرونی قوتوں کی مداخلت کے مکمل خاتمے کے بعد ہی تمام افغان دھڑوں بالخصوص طالبان اور کابل حکومت کے مابین آسانی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ یہی افغانستان میں امن و استحکام لانے کا واحد راستہ ہے۔








