اسلام آباد ۔ 19 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ، عوام کے تحفظ اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے لئے مرحلہ وار 34 ٹرینیں بند کررہے ہیں ، پہلے مرحلے میں 22مارچ سے 12ٹرینیں بند جبکہ یکم اپریل سے مزید 20 ٹرینیں بند کیں جائیں گی، بند ہونے والی ٹرینوں کے مسافروں کو 100فیصد ریفنڈ ہوگا …
کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ، عوام کے تحفظ کےلئے مرحلہ وار 34 ٹرینیں بند کررہے ہیں ،وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ، عوام کے تحفظ اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے لئے مرحلہ وار 34 ٹرینیں بند کررہے ہیں ، پہلے مرحلے میں 22مارچ سے 12ٹرینیں بند جبکہ یکم اپریل سے مزید 20 ٹرینیں بند کیں جائیں گی، بند ہونے والی ٹرینوں کے مسافروں کو 100فیصد ریفنڈ ہوگا ،اگر ایڈواونس بکنگ کے حامل مسافر انہی تاریخوں پر اس روٹ کی دوسری ٹرین پر سفر کرنا چاہیں تو وہ یہ ہی بکنگ قابل عمل تصور ہوگی ، ٹرینوں کا مکمل آپریشن بند ہونے سے پنشن اور تخواہوںکی ادائیگی مشکل ہوجائے گی ،ریلوے جو بھی کماتا ہے اپنے اوپر ہی خرچ کرتا ہے ،گذشتہ سال مجموعی طور پر 10ارب کا منافع حاصل کیا ، راولپنڈی ،لاہور ،کراچی اور پشاور کے سٹیشنوں پر رش کم کرنے کے لئے قریب کے دو سے تین سٹیشنوں پر ٹرینوں کے سٹاپ بنا دیئے گئے ہیں ۔ وہ جمعرات کو پی آئی ڈی کے میڈیا سینٹر میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا کہ لاہور میں والٹن ، کوٹ لکھ پت، کراچی میں لانڈی ،ملیر ، ڈریگ روڈ ،راولپنڈی میں چکلالہ اور پشاور میں بھی دو سے تین سٹیشنوں میں تمام ٹرینوں کے سٹاپ بنا دیئے گئے ہیں، کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ ، احتیاطی تدابیر کو یقینی بنانے کےلئے 22 مارچ سے خوشحال خان خٹک ایکسپریس ، اکبر ایکسپریس ، سندھ ایکسپریس ، شاہ لطیف ایکسپریس ، روحی ایکسپریس بند ہونگی ،ایڈوانس بکنگ کرانے والوں کو 100فیصد ریفنڈ کرتے ہوئے 8کروڑ روپے ادا کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، ان تمام ٹرینوں کا ریفنڈ 3سے 4دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا ،اسی طرح 25مارچ کو دوبارہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوگا جس میں مزید 20ٹرینیں بن کیں جائیں گی ،اس وقت 134مسافر ٹرینیں اور 15مال گاڑیاں چل رہیں ہیں ،اس طرح ٹرینوں کی بندش کے بعد مسافر ٹرینوں کی تعداد 100رہ جائے گی تاہم مال گاڑیاں معمول کے مطابق چلتی رہیں گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کے تمام ریلوے سٹیشنوں پر صاف کے بہترین انتظامات کے ساتھ ساتھ ٹرینوں کے اندر بھی صاف ،سٹیشنوں پر مسافروں کی سکریننگ ، ریلوے ملازمین کو ماسک ،کلوز اور دیگر ضروری میڈیکل آلات فراہم کردیئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کر کے انھیں ساری صورتحال سے آگاہ کردیا ہے ۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بند کی جانے والی ٹرینوں سے آمدن پر ذیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن دوسرے مرحلے میں جو 20ٹرینیں بند ہونگی اس سے آمدن پر واضح فرق پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹرینوں کا مکمل آپریشن نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پی آئی اے کی پروازیں بھی بند ہیں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی بند ہے اس صورتحال میں عوام کے پاس ٹرین کا آپش ہی باقی رہ جاتا ہے ، ریلوے کے پنشنرز اور ملازمین کو تنخواہ ٹرینوں کی آمدن سے ہی ادا ہوتی ہے اگر مکمل آپریشن بند ہو گیا تو پھر پنشن اور تنخواہ کے پیسے بھی نہیں ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلو ے کے ملک بھر میں 12بڑے ہسپتال اور 26 بڑی ڈسپنسریاں ہیں وفاقی اور صوبائی حکومت کو پیشکیش ہے اگر وہ ان ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو کرونا وائرس آئسولیشن کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ کے لئے لاک ڈاﺅن کوئی حل نہیں ہے ، جن ممالک نے مکمل لاک ڈاﺅن کیا ہے وہاں پر کیاکرونا وائرس کا پھیلاﺅ یا اثرات کم ہوئے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ گذشتہ سال ریلوے نے 10ارب کا آمدن حاصل کی جس میں سے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضاے اور انجن خریداری کے اخراجات کے بعد 4ارب منافع ہوا ہے ،آئندہ سال ان تمام تر چینلجز اور مشکلات میں بھی منافع کمانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے ۔








