پمز آتشزدگی واقعہ کی ابتدائی تحقیقات کے بعدایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 عہدیداران کو معطل کر دیا گیا ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

پمز آتشزدگی واقعہ کی ابتدائی تحقیقات کے بعدایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 عہدیداران کو معطل کر دیا گیا ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران و اہلکاروں سمیت 8 افراد کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ معطلیاں انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی صرف معطلی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوجداری کارروائی سمیت مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ابتدائی طور پر واقعہ ہسپتال انتظامیہ اور عملے کی غفلت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جنہوں نے نرسری میں موجود خرابی کی بروقت نشاندہی اور اسے دور کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت پہلے ہی احتساب کے لیے خود کو پیش کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں اور اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ہسپتال کو مریضوں کے لیے جدید ترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کے معاملے میں ہمیشہ معاون رہے ہیں۔