ادب، کتاب اور اہلِ علم و قلم معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں،گورنر سندھ
ادب، کتاب اور اہلِ علم و قلم معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں،گورنر سندھ

مزید خبریں
کراچی۔ 29 اگست (اے پی پی):گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ ادب، کتاب اور اہلِ علم و قلم معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز شاعر و سماجی کارکن مظہر ہانی کے شعری مجموعے غبارِ دل کی تعارفی تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ہفتہ کو گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق گورنر سندھ نے کہا کہ خوشی ہے کہ آج کی تقریب میں ادب اور کتاب کے فروغ کی بات ہو رہی ہے، لوگوں کی خدمات اور صلاحیتوں کا اعتراف ان کی زندگی ہی میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میرے قائد کے ہاں شاعری، ادب، کتاب اور نثر کو ہمیشہ خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔انہوں نے ممتاز صحافی و دانشور محمود شام اور صاحبِ کتاب مظہر ہانی سے اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مظہر ہانی کے گھر پر ادبی اور سماجی محافل منعقد ہوا کرتی تھیں، جہاں سے انہیں سیاست، ادب اور سماجی خدمت کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ مظہر ہانی کی سماجی خدمات سے متاثر ہوکر انہوں نے بھی سماجی کاموں کا آغاز کیا اور سینیٹر جاوید جبار کی این جی او سے وابستہ رہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ گورنر ہائوس میں سیرت لائبریری اور تحریکِ پاکستان میوزیم قائم کرنے پر کام جاری ہے، جس کا مقصد نئی نسل کو علم، ادب، تاریخ، سیرتِ طیبہ ۖ اور تحریکِ پاکستان کی جدوجہد سے روشناس کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے، پاکستان نہ ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی اپنی موجودہ شناخت کے ساتھ موجود نہ ہوتا۔ حالیہ قومی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں جو کامیابیاں حاصل کی گئیں، ان سے دنیا میں پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کو ایک باوقار اور مزید مضبوط مقام دلانے کے لیے ہمیں اپنے کردار کو بہتر بنانا اور نئی نسل کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ مضبوط کردار کا حامل انسان نہ صرف اپنی ذات بلکہ دوسروں کی مدد اور معاشرے کی بہتری کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط کردار ہی مضبوط قوم کی بنیاد بنتا ہے۔تقریب سے اختر سعدی، ڈاکٹر رخسانہ صبا، خالد عرفان، اخلاق احمد، رضوان احمد، ممتاز صحافی و دانشور محمود شام اور صاحبِ کتاب مظہر ہانی نے بھی خطاب کیا۔







