مسلم لیگ (ن) نے تین دہائیوں تک صوبے میں حکومت کرنے کے باوجود بدقسمتی سے عوام کی سہولیات کیلئے ایک بھی بین الاقوامی معیار کا ہسپتال تعمیر نہیں کرایا، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد ۔ 29 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پنجاب میں صحت سمیت دیگر شعبوں کو نظر انداز کرنے پر سابق وزیر اعلی شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی لاپرواہی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو حالیہ کورونا کی وباء پر ہسپتالوں سمیت صحت کے اداروں کی کمی کے سبب …

اسلام آباد ۔ 29 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پنجاب میں صحت سمیت دیگر شعبوں کو نظر انداز کرنے پر سابق وزیر اعلی شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی لاپرواہی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو حالیہ کورونا کی وباء پر ہسپتالوں سمیت صحت کے اداروں کی کمی کے سبب سہولیات کے حصول میں بے پناہ پریشانی کا سامنا ہے، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے گزشتہ تین دہائیوں سے اس صوبے پر حکومت کی لیکن بدقسمتی سے وہ عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لئے ایک بین الاقوامی معیار کا صحت کا ادارہ قائم نہیں کرسکے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی شہباز شریف ملک میں مہلک وباء کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو سیاست میں زندہ رکھنے کیلئے قوم کو گمراہ کرنے اور چالیں چلنے سے گریز کریں، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو قومی خزانے کو لوٹنے پر اور صحت سمیت دیگر اداروں کو تباہ کرنے کے حوالے سے نیب کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کی مدد کے لئے اسٹیٹ بینک میں قائم کئے جانے والے فنڈز میں غیر ملکی کرنسی جمع کروائیں، آزمائشی وقت میں انہوں نے ہمیشہ ملک کی مدد کرنے کے لئے فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ہمیشہ قومی جذبے سے سرشار ہو کر ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں فرنٹ لائن کردار ادا کیا، امید ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں اوورسیز پاکستانیوں کے تعاون سے حکومت ملک کو معاشی بدحالی کی طرف بڑھنے سے روک لے گی۔ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اس کے علاوہ اس وباء سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچا ہے، پاکستان بھی موجودہ حالات میں اسی چیلینج کا مقابلہ کرنے والی اقوام میں شامل ہے۔