پاکستان بھارتی جبروتسلط کے خلاف جدوجہد میں حق خود ارادیت ملنے تک اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور مدد جاری رکھے گا،ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی

اسلام آباد ۔ 29 مارچ (اے پی پی)پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں کورونا وباء سے متاثرہ کیسوں اور اموات کی تصدیق کے باوجود پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں فوری ہٹانے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور لوگوں کو طبی اور دیگر ضروری سہولتوں تک رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کرے۔بھارت …

اسلام آباد ۔ 29 مارچ (اے پی پی)پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں کورونا وباء سے متاثرہ کیسوں اور اموات کی تصدیق کے باوجود پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں فوری ہٹانے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور لوگوں کو طبی اور دیگر ضروری سہولتوں تک رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کرے۔بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کوجبرواستبداد سے زیادہ دیر تردبا نہیں سکتا۔ پاکستان بھارتی جبروتسلط کے خلاف جدوجہد میں حق خود ارادیت ملنے تک اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور مدد جاری رکھے گا۔ اتوار کو ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق پاکستان نے کرونا وبا کے پیش نظر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قدغنیں ختم اور کشمیری قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کی وجہ سے دو اموات اور متعدد افراد میں اس وباء کی تصدیق کے باوجود مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلسل پابندیوں اور قدغنوں پر شدید تشویش ہے۔ ہزاروں کشمیری نوجوان، سول سوسائیٹی کے ارکان، صحافی اور کشمیری رہنما بھارتی جیلوں اورعقوبت خانوںمیں قید ہیں۔ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے کالے اور بدنام زمانہ قوانین کے تحت نامعلوم مقامات پر قید ہیں اور ان کے اہلخانہ کو اس ضمن میں کچھ علم نہیں۔ اعلی حریت قیادت کو مختلف جیلوں اور گھروں پر نظر بند اور قید کیاگیا ہے۔ حریت رہنما یاسین ملک، محترمہ آسیہ اندرابی اور دیگر رہنما جعلی وبے بنیاد الزامات یا کسی شفاف عدالتی عمل کے بغیر قید ہیں۔ یاسین ملک کی صحت کی صورتحال پہلے ہی انتہائی تشویشناک ہے اور انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے 30 سال پرانے کیس میں ایک جعلی فرد جرم کے خلاف غیرمعینہ مدت تک بھوک ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ5 اگست2019 کے غیرقانونی بھارتی اقدامات کے بعد سے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ‘4۔ جی’ انٹرنیٹ سروسز کی مسلسل پابندیوں کے باعث طالب علم ورچوئل ایجوکیشن جاری رکھنے سے بھی محروم ہیں۔ دنیاکورونا وائرس کی وجہ سے صحت کی بدترین ہنگامی حالت سے لڑنے میں مصروف ہے لیکن بھارت کی 9 لاکھ قابض افواج بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کے مصائب بڑھا رہی ہیں اور ان پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور مخدوش صورتحال سے آگاہ ہے، بین الاقوامی برادری بھارت سے اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں عائد کردہ پابندیاں اور قدغنیں ختم کرنے اورکشمیری عوام کو طبی اور دیگر ضروری اشیائ کی فراہمی کا مطالبہ کرے۔ بھارتی حکومت پر زور دیا جائے کہ بھارتی جیلوں میں قید تمام سیاسی رہنماوں کو رہا کرے، سینئر حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) رہنماوں کی نظربندی اور حراست ختم کرے، پورے مقبوضہ خطے میں انٹرنیٹ کی سہولت بحال کرے، پبلک سیفٹی ایکٹ سمیت دیگر تمام کالے اور ظالمانہ قوانین کالعدم کرے اور اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر سے قابض افواج کا انخلاء کرے۔ انہوں نے کہا کہ5 اگست2019 کے بعد سے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا نے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کوجبرواستبداد سے زیادہ دیر تردبا نہیں سکتا اور نہ ہی عالمی برادری کی جانب سے اپنے ان اقدامات پر ذلت ورسوائی اور مذمت سے ہی پیچھا چھڑا سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی جبروتسلط کے خلاف جدوجہد میں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق ملنے تک اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور مدد جاری رکھے گا۔