روم ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کورونا وائرس سب سے متاثر ملک اٹلی کے وزیر اعظم گیوسپ کونٹے اطالوی وزرا اور محکمہ صحت کے حکام نے اطالوی عوام سے کہا ہے کہ وہ بہت طویل لاک ڈاﺅن کے لئے تیار رہیں۔اطالوی حکومت کی طرف سے یہ پیغام ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب ملک میں پہلی بار کورونا وائرس سے اموات اور متاثر ہونے والوں کی تعداد …
اطالوی حکوت کی عوام سے طویل لاک ڈاﺅن کے لئے تیار رہنے کی اپیل
روم ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کورونا وائرس سب سے متاثر ملک اٹلی کے وزیر اعظم گیوسپ کونٹے اطالوی وزرا اور محکمہ صحت کے حکام نے اطالوی عوام سے کہا ہے کہ وہ بہت طویل لاک ڈاﺅن کے لئے تیار رہیں۔اطالوی حکومت کی طرف سے یہ پیغام ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب ملک میں پہلی بار کورونا وائرس سے اموات اور متاثر ہونے والوں کی تعداد میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں کورنا وائرس سے ایک دن میں اموات 969 تک پہنچ گئی تھیں جو دوسرے دن 756 رہیں۔ اسی طرح اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی شرح بھی کم ہو کر چھ فیصد تک آئی ہے۔ایک اطالوی وزیر فرانسسکو بوکیا نے اطالوی ٹی وی چینل سکائی ٹی جی 24 کو انٹرویو میں بتایا کہ حکومت نے قبل ازیں ملک میں 3 اپریل تک لاک ڈاﺅن کا اعلان کر رکھا ہے تاہم اس مدت میں توسیع ناگزیر دکھائی دے رہی ہے اور لاک ڈاﺅن کو تین اپریل کو ختم کرنے کے اقدام پر غور غیر مناسب اور غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ لاک ڈاﺅن کے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں لیکن یہ انسانی جانیں بچانے کے لئے ناگزیر ہے۔دریں اثنا نائب وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث ابتدائی طور پر 28 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری دی تھی تاہم اب اندازہ ہوتا ہے کہ اس پیکج کا حجم بڑھا کر کم از کم چار گنا کرنا ہوگا۔ اطالوی وزیر صحت رابرٹو سپیرانزا کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی شرح میں کمی کے باوجود سخت اقدامات جاری رکھے گی اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ اقدامات تیس جون کے بعد بھی جاری رہیں۔ واضح رہے کہ اٹلی کے شہر سسلی میں لوگوں کی طرف سے اشیاءخوردونوش کے حصول کے لئے لوٹ مار کے واقعات کے بعد پولیس کی بھاری نفری سپر مارکیٹس میں تعینات ہے۔









