اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر مالی مشکلات کا شکار دیہاڑی دار اور محنت کش، بے گھر افراد کے لئے پناہ گاہیں قیام و طعام کا واحد ذریعہ بن گئیں، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قائم پناہ گاہیں روزانہ ایسے سینکڑوں دیہاڑی دار اور مزدور طبقات کی میزبانی میں مصروف ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لاک ڈاﺅن …
اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کی قائم پناہ گاہیں بے گھر افراد کےلئے پناہ گاہیں قیام و طعام کا واحد ذریعہ بن گئیں
اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر مالی مشکلات کا شکار دیہاڑی دار اور محنت کش، بے گھر افراد کے لئے پناہ گاہیں قیام و طعام کا واحد ذریعہ بن گئیں، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قائم پناہ گاہیں روزانہ ایسے سینکڑوں دیہاڑی دار اور مزدور طبقات کی میزبانی میں مصروف ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقات، مزدور اور محنت کش مالی مشکلات کا شکار ہیں جنہیں پناہ گاہوں میں نہ صرف کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں بلکہ ان کی کھانے پینے کی بنیادی ضروریات کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ ترلائی پناہ گاہ میں مقیم سندھ سے آئے ہوئے ایک دیہاڑی دار مزدور ندیم اخلاق نے پیر کو یہاں ”اے پی پی“ کو بتایا کہ آج کل شہر میں کوئی معاشی سرگرمی نہیں ہے جس کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوا ہے لیکن پناہ گاہیں ہمارے لئے خوراک کا واحد ذریعہ بنی ہوئی ہیں جہاں تین وقت کھانا روزانہ ملتا ہے۔ ندیم اخلاق نے کہا کہ دوسرے علاقوں سے ہجرت کر کے اسلام آباد میں دیہاڑیاں لگانے والے اکثر مزدور اس امید پر شہر میں ٹھہرے ہوئے ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں حالات معمول پر آ جائیں گے اور سندھ میں مکمل لاک ڈاﺅن کی وجہ سے میں نے اسلام آباد میں رہنے کو ترجیح دی ہے اور ایسے میں یہ پناہ گاہیں میرے لئے کسی سہارے سے کم نہیں۔ دیہاڑی دار مزدور غلام علی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایک روپیہ نہیں کمایا اور پرائیویٹ ہاسٹل کی بندش کی وجہ سے بھی رہائش کا کوئی بندوبست نہیں، اسی اثناءمیرے ایک دوست نے مجھے پناہ گاہ میں جانے کا مشورہ دیا اور گزشتہ دو روز سے میں یہاں تین وقت کا کھانا حاصل کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پناہ گاہیں حکومت کا ایک احسن قدم ہیں جس سے غریب عوام کو ایک سہارا ملا ہے اور خاص طور پر کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر معاشی مشکلات کا شکار مزدور طبقات ان پناہ گاہوں سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔ صفدر نامی ایک مزدور نے کہا کہ بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے پناہ گاہیں ہی واحد ذریعہ ہیں جہاں ہم مزدوروں کو پناہ ملتی ہے۔ وزیراعظم کے پناہ گاہوں سے متعلق فوکل پرسن نسیم الرحمن نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر انتظامات کے جائزہ کے لئے ترلائی شیلٹر ہوم کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں دیہاڑی دار طبقہ معاشی طور بہت زیادہ متاثر ہے اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ ان کی مناسب دیکھ بھال کی جائے۔ ایسے افراد کو وبا سے بچانے کے لئے بھی ان کی صحت کی صورتحال کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اور شیلٹر ہوم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیزی سے تخمینے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے تاکہ بلا تعطل انہیں خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صابن، ہینڈ سینی ٹائرز، ماسک اور دیگر ضروری اشیاءکی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ مکمل جائزے کے بعد حکومت قومی اور مقامی عطیہ دہندگان کو متحرک کرے گی تاکہ معاشرے کے ایسے طبقات کی مدد کی جا سکے۔ نسیم الرحمن نے کہا کہ حال ہی میں پارلیمانی سیکرٹری شاندانہ گلزار اور وجہیہ اکرم بھی ان پناہ گاہوں کا دورہ کر چکی ہیں اور پناہ گاہوں کے مکینوں کے مسائل جاننے کا انہیں موقع بھی ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام عمل کا مقصد پناہ گاہوں کے مکینوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نسیم الرحمن نے کہا کہ رضا کار بھی مصروف عمل ہیں تاکہ معاشرے کے اس طبقے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ضروریات کا خیال رکھا جا سکے اور کورونا وائرس کے پھیلاﺅ سے انہیں بچایا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ اور دیگر فریقین بھی احتیاطی اقدامات اٹھا رہے ہیں اور جراثیم کش ادویات کے سپرے کے علاوہ ماسک کی تقسیم، سینی ٹائزر کی فراہمی کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر دیہاڑی دار مزدور طبقات کی مدد کریں۔









