حکومت نے بچوں کیلئے آن لائن کلاسز شروع کی ہیں ، کوشش کریں گے کہ ٹی وی پر اردو، انگریزی اور اسلامیات کے مضامین پڑھائے جائیں، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت نے بچوں کیلئے آن لائن کلاسز شروع کی ہیں اور اس مقصد کیلئے پاکستان ٹیلی ویژن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، کوشش کریں گے کہ ٹی وی پر اردو، انگریزی اور اسلامیات کے مضامین پڑھائے جائیں کیونکہ ان مضامین کا سلیبس تمام صوبوںمیں تقریباً ایک جیسا ہے۔ …

اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت نے بچوں کیلئے آن لائن کلاسز شروع کی ہیں اور اس مقصد کیلئے پاکستان ٹیلی ویژن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، کوشش کریں گے کہ ٹی وی پر اردو، انگریزی اور اسلامیات کے مضامین پڑھائے جائیں کیونکہ ان مضامین کا سلیبس تمام صوبوںمیں تقریباً ایک جیسا ہے۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی وزراءتعلیم کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا گیا تھا، مزید بھی جو فیصلے کریں گے باہمی مشاورت سے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے نصاب پر تمام صوبوں نے دستخط کئے ہیں اور سب کا اتفاق ہے، سندھی طلبہ کیلئے سندھی زبان میں کورسز کا سوچ رہے ہیں، اس کے علاوہ سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں بھی آن لائن لیکچر پر غور کر رہی ہیں اور امید ہے کہ ہائرایجوکیشن کمیشن جلد ہی اس حوالے سے تفصیلات جاری کرے گا۔ شفقت محمود نے کہا کہ حکومت عوام سے کچھ نہیں چھپا رہی، یہ بات درست ہے کہ ٹیسٹ کم ہو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ ملک کے پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کو ریلیف دیا جائے اور اس مقصد کیلئے انہیں راشن اور امداد دینے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ مہلک وباءکے پھیلنے کا الزام کسی ایک گروہ کو دینا ٹھیک نہیں ہے، پوری دنیا میں وباءپھیلی ہوئی ہے، پاکستان میں صورتحال ابھی کنٹرول میں ہے اسلئے عوام سے اپیل ہے کہ وہ وائرس سے بچاﺅ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سماجی فاصلہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی گزشتہ 3 دہائیوں سے ملک میں حکومت کرتی آئی ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا، مسلم لیگ ن کے قائدین ملک میں ایک بھی بین الاقوامی معیار کا ہسپتال تعمیر نہیں کرا سکے جہاں پر وہ اپنا علاج کرا سکتے، وہی لوگ اب حکومت کو لیکچر دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے میں بہتری لانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔