کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے باعث ویکسینیشن پروگرامز کی معطلی سے لاکھوں بچوں کو خسرے کی بیماری کا خطرہ ہے، اقوام متحدہ

پیرس ۔ 15 اپریل (اے پی پی) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے باعث خسرے کی وباء سے دوچار ممالک میں خسرے سے بچائو کے ویکسینیشن پروگرام معطل ہونے سے 117 ملین بچوں کو خسرے کی بیماری کا خطرہ ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے فلاحی ادارہ یونیسیف نے کہا ہے کہ …

پیرس ۔ 15 اپریل (اے پی پی) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے باعث خسرے کی وباء سے دوچار ممالک میں خسرے سے بچائو کے ویکسینیشن پروگرام معطل ہونے سے 117 ملین بچوں کو خسرے کی بیماری کا خطرہ ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے فلاحی ادارہ یونیسیف نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلائو پر قابو پانے کے لیے خسرے کی وباء سے متاثرہ 24 ممالک نے خسرے سے بچائو کے ویکسینیشن پروگرام معطل کر دیئے ہیں جبکہ مزید 13 ممالک میں خسرے کے ویکسینینشن پروگرامز میں کورونا وائرس کے باعث رکاوٹ درپیش ہے۔ خسرے کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ ایم اینڈ آر آئی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی موجودہ وباء کے دوران اور اس کے بعد خسرے سے بچائو کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو جاری رکھنا ضروری تھا لیکن حفاظتی ٹیکے لگانے کی سرگرمیوں کی معطلی سے117 ملین سے زائد بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایم اینڈ آر آئی نے کہا کہ بیماری کے زیادہ خطرات والے ممالک میں بڑے پیمانے پر مہمات کے وقفے کے ذریعے کورونا وائرس سے عوام اور صحت کے کارکنوں کو بچانے کی ضرورت ہے اگرچہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کے پروگرامز پر مستقل توجہ نہ دی جائے بلکہ وبا کے دوران بھی مہلک امراض کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے والے پروگرامز جاری رکھے جانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ خسرہ انتہائی متعدی بیماری جس سے ہر سال تقریباً 20 ملین افراد اثر انداز ہوتے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد 5 سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے، ایک سستی اور آسانی سے دستیاب ویکسین کے باوجود حالیہ برسوں میں خسرہ کے کیسز میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ بہت سے لوگ بچوں کو ویکسین پلانے میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔