وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 98فیصد امور پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے پایا گیا، ما سوائے سندھ کے تمام صوبوں بشمول آزادوجموں کشمیر ،گلگت بلتستان نے یک زبان اور ہم آواز ہو کر وزیراعظم کی اس سوچ کو آگے بڑھایا، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد ۔ 15 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 98فیصد امور پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے پایا گیا، ما سوائے سندھ کے تمام صوبوں بشمول آزادوجموں کشمیر ،گلگت بلتستان نے یک زبان اور ہم آواز ہو کر وزیراعظم کی اس سوچ کو …

اسلام آباد ۔ 15 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 98فیصد امور پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے پایا گیا، ما سوائے سندھ کے تمام صوبوں بشمول آزادوجموں کشمیر ،گلگت بلتستان نے یک زبان اور ہم آواز ہو کر وزیراعظم کی اس سوچ کو آگے بڑھایا،سندھ حکومت نے بغیر مشاورت کے سب سے پہلے لاک ڈائون کیا اس کے باوجود سندھ میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز ،کرونا وائرس کے وینٹیلیٹر پر پڑے ہوئے افراد، اموات اور کرونا کا پھیلائو تمام صوبوں سے ذیادہ ہے ،وفاقی حکومت سندھ کے شہریوں کو بے یارومدد گاریا سندھ حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی ، داخلی سندھ سے دیہی سندھ تک ہر طرف بھوک ،افلاس ،بے روزگاری عروج پر ہے ، کرونا سے بچنے کے لئے احتیاط ہی واحد علاج ہے ، حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی احتیاط کے اندر عملی حصہ دار بننا ہوگا ،عوام حکومت کے ساتھ ملکر کرونا وائرس کو شکست دیں گے ۔ وہ بدھ کو پی ٹی آئی سندھ کے صدر علیم عادل شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہیں تھیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کرونا وائرس کے ساتھ جڑے چینلجز کے حوالے سے قومی بیانیہ اور قومی حکمت عملی ترتیب دی گئی ،اس حکمت عملی کا محور اور مرکزیہ ہے کہ کرونا کے پھیلائو کو روکنے کے لئے وفاق اور صوبے حفاظتی تدابیر پر عمل کریں اور کرونا پھیلائو محدود کرنے کے لئے وباء سے جڑی احتیاط کو شعور کے ذریعے عوام کو باور کرایا جائے کہ یہ مرض ناقابل علاج ہے ، کرونا سے بچنے کے لئے احتیاط ہی واحد علاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں قومی رابطہ کمیٹی نے گذشتہ روز 98فیصد فیصلے اتفاق رائے سے کیے ،لاک ڈائون اور تعمیراتی صنعت کے حوالے سے سندھ حکومت کے تحفظات تھے جس پر وزیراعظم نے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کی فضاء کو یقینی بنانے اور پوری قوم کو یکجا رکھنے کے لئے فیصلہ کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد امن و امان ، انتظامی اختیارات چونکہ صوبوں کے پاس ہیں تو تو یہ ضروری اشیاء ، عوامی ریلیف کے بارے میں صوبائی حکومتیں خود ہی فیصلہ کریں اور صوابدیدی اختیار استعمال کر تے ہوئے جہاں جہاں موثر حکمت عملی سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے وہاں حالات ،واقعات اور صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے صوبے خود فیصلے کریں۔ انہوں نے کہا کہ باقی صوبوں نے جس طرح یک زبان اور ہم آواز ہو کر وزیراعظم کی اس سوچ کو آگے بڑھایا بدقمستی سے سندھ سے پھر متنازعہ ٹویٹ جاری ہوتا ہے جس میں وزیراعظم کے اقدامات کو قوم کی موت سے تشبیہ دی گئی ہے ،قوم کو ایک دفعہ پھر تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وزیراعظم ، قومی رابطہ کمیٹی اور حکومتی اداروں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اپنے صوبے کے مفاد میں صوبائی حکومتیں مرضی کے فیصلے کرسکتیں ہیں ۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے معنی خیز انداز میں میڈیا کی سکرین پر لوگوں کے مرنے کی بات کی کر کے ثابت کر دیا کہ وہ حقیقی قائد نہیں ہیں کیونکہ قائد تو ہمیشہ قوم کو ہمت اور حوصلہ دیتا ہے اورقوم اس قائد سے توقع کرتی ہے کہ میرا قائد ہر حال میں میرا مسیحا بنے گا اور مجھے اس مشکل سے نکالے گا ، عوام میں مایوسی پھیلانا اور زندگی بجائے لوگوں کو موت سے ڈرانے والا کبھی قائد نہیں بن سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرا علی سندھ نے ہمیشہ وہ ہی پالیسیاں بنائیں اور قدم اٹھائے جن سے صرف ایلیٹ کلاس کو فائدہ پہنچا ، وزیراعلی سندھ صاحب آپکے صوبدیدی اختیارات ضرور ہیں لیکن اس ساتھ ساتھ آپکے فرائض بھی ہیں کہ لاک ڈائون سے متاثرہ ، بھوک ،افلاس اور بے روزگاری کے لئے بھی سوچیں کہ ان لوگوں کو بھوک اور افلاس سے کیسے بچایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی سندھ حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کے لئے تیار ہے ، ایمرجنسی کیش منتقلی پروگرام ریاست کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ، وزیراعظم عمران خان اس پرگرام کے ذریعے مشکل کے شکارشہریوں کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مصروف ہیں، ایمرجنسی کیش ٹرانسفر پروگرام پر قائداعظم کی تصویر لگی ہوئی ہے اس وقت سیاست نہیں چمکانی یہ خدمت کا وقت ہے۔ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر و سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ نے کہا کہ ایدھی سینٹر نے 400نعشیں ہسپتالوں یا گھروں سے اٹھانے کا اعتراف کیا ہے ،کراچی کے ایک ہسپتال کے سربراہ نے بتایا کہ 225لوگ ہسپتال پہنچنے سے پہلے یا دوران علاج جاں بحق ہوئے ہیں ، یہ تعداد بڑے خطرات کی نشاندہی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کا فیصلہ مشاورت نے کرنے کی وجہ سے آج اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں، اوپی ڈیز ، ٹرانسپورٹ کی بندش ، لاک ڈائون کی بندش کا فیصلہ انا پرستی ہے ،اس آنا پرستی سے باہر نکلنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کیش ایمرجنسی منتقلی پروگرام کے تحت اب تک 29ارب روپے 24لاکھ لوگوں میں تقسیم ہوچکے ہیں ان میں سے سندھ کے 8لاکھ 71لوگوں میں فی خاندان 12ہزار تقسیم ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا صحت کے کلئے 140ارب کا سالانہ بجٹ ہے اور گذشتہ 10سالوں سے سندھ پیپلز پارٹی چلا رہی ہے تو جو بھی صورتحال ہے اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی قیادت ہی ہے۔