اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے ترجمان برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ یہ چیلنجنگ وقت ہے، کورونا وائرس وباءسے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کو جلد از جلد واپس لانا حکومت کی ترجیح ہے، بیرون ممالک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو مرحلہ وار واپس لانے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور رواں ہفتے 6 ہزار سے …
معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے ترجمان برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ یہ چیلنجنگ وقت ہے، کورونا وائرس وباءسے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کو جلد از جلد واپس لانا حکومت کی ترجیح ہے، بیرون ممالک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو مرحلہ وار واپس لانے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور رواں ہفتے 6 ہزار سے زائد لوگوں کو واپس لایا جائے گا۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 21 مارچ کو فضائی حدود بند ہونے کے بعد بیرون ممالک ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو ترجیح بنیادوں پر واپس لایا گیا ہے، اب دوسرے مرحلے میں بیرون ممالک بے روزگار ہونے والے شہریوں اور مختلف ممالک کی جیلوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کو واپس لایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ اگلے ایک سے دو ہفتوں تک معمول کی پروازوں کی بحالی کا امکان نظر نہیں آ رہا، اس وقت ہمارا ہدف ٹیسٹنگ استعداد کار بڑھانا ہے اور امید ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ہم یومیہ 20 ہزار ٹیسٹ کرنے کے قابل ہو جائیں گے، بیرون ممالک وباءکا پھیلاﺅ کم ہونے پر پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے covid.gov.pk کے نام سے بنائی گئی ویب سائٹ پر بیرون ملک سے آنے والوں اور پروازوں کے شیڈول کے حوالے سے ساری تفصیلات موجود ہیں۔ معاون خصوصی قومی سلامتی نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاﺅن سے قبل اسمارٹ ٹیسٹنگ اور اسمارٹ ٹریکنگ کی ضرورت ہے اس کے ذریعے ہمیں جن علاقوں میں زیادہ کیسز ہوں گے کے بارے معلوم ہو سکے گا اور پھر وہاں پر لاک ڈاﺅن کو سخت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر وباءپر قابو پانے کے حوالے تمام تر ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے۔ امریکہ کے چین پر وباءپھیلانے کے الزام کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت اس طرح کے بیانات غیرسنجیدہ اور بے معنی ہیں۔








